صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 380
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۸۰ ٨٦- سورة الطارق ۶۵ - کتاب التفسير / الطارق هُوَ النَّجْمُ وَمَا أَتَاكَ لَيْلًا فَهُوَ طَارِقٌ (الطارِق) ایک ستارہ ہے۔اور جو تیرے پاس النَّجمُ الثَّاقِبُ (الطارق : ٤) الْمُضِيءُ رات کو آئے اُسے بھی طارق کہتے ہیں۔النَّجْمُ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ذَاتِ الرَّع ( الطارق : ۱۲) القاب کے معنی ہیں روشن ستارہ۔اور مجاہد نے کہا: سَحَابٌ يَرْجِعُ بِالْمَطَرِ، وَذَاتِ الصَّدْعِ ذَاتِ الربيع سے مراد ابر ہے جو بار بار بارش لاتا (الطارق: ١٣) الْأَرْضُ تَتَصَدَّعُ بِالنَّبَاتِ ہے۔ذَاتِ الصدع سے مراد وہ زمین ہے جو : قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ لَقَولُ فَضْلُ ( الطارق :١٤) نباتات آنگاتی رہتی ہے۔اور حضرت ابن عباس نے لَحَقِّ لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظ (الطارق: ٥) کہا: لَقَول فصل سے مراد ہے ضرور کچی بات۔لما عَلَيْهَا حَافِظ میں لیا، إِلَّا کے معنی میں ہے یعنی ہر کسی پر ( خدا کی طرف سے کوئی نگران مقرر ہے۔إِلَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ۔تشریح: سورۃ الطارق: طارق ایک ستارہ ہے۔اور جو تیرے پاس رات کو آئے اُسے بھی طارق کہتے ہیں۔علامہ عینی لکھتے ہیں: طارق کا لفظ طرفی سے ہے جس کے معنی کھٹکھٹانے کے ہیں یہ نام اس کو اس لیے دیا گیا ہے کہ رات کو آنے والے کو دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت پڑتی ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۸۷) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ سورۃ اس سلسلہ مضمون کی جو بیان ہوتا آرہا ہے چوتھی سورۃ ہے اِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ اس سلسلہ کی پہلی سورۃ تھی اور اِذَا السَّمَاء انشقت دوسری سورۃ تھی اور وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوج تیسری سورۃ تھی اور وَالسَّمَاءِ وَ الظَّارِقِ یعنی یہ سورۃ جو زیر بحث ہے اس سلسلہ کی چوتھی سورۃ ہے۔غرض یہ اس سلسلہ کی آخری سورۃ ہے اس کے بعد والسماء کا لفظ نہیں بلکہ سبح اسم ربك الأعلى سے نئی سورۃ کا مضمون شروع ہو گا۔میرے نزدیک سورۃ طارق ایک عالم برزخ کے طور پر درمیان میں آئی ہے جس میں پہلے مضمون کو بدل کر ایک دوسری طرف پھیرا جائے گا۔(تفسیر کبیر ، سورۃ الطارق، جلد ۸ صفحہ ۳۷۳) ذَاتِ الرّجع سے مراد اکبر ہے جو بار بار بارش لاتا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رجع کے معنے جیسا کہ بتایا جا چکا ہے اُس بادل کے ہوتے ہیں جو بار بار برستا ہے