صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 379
۶۵ - کتاب التفسير / البروج صحیح البخاری جلد ۱۲ ان آیات میں اُن مؤمنوں کا ذکر ہے جنہیں ابتلاؤں کا تختہ مشق بنایا جائے گا اور اس کے ساتھ یہ خوشخبری بھی دی گئی ہے کہ آج جو تم ابتلاؤں کے لیے چنے گئے ہو کل کو تمہی انعامات کے وارث بنو گے۔تمہارا ابتلا میں پڑنا تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے نہیں بلکہ خدائے ودود جو تم سے بے حد محبت کرتا ہے ایسی محبت جو کسی دوسرے رشتہ میں ملنی ممکن نہیں ہے۔وہ تمہیں پاک اور صاف کرنے کے لیے ان بھٹیوں سے گزارنا چاہتا ہے تاجب تم خدا کے حضور حاضر ہو تو تمہارے اوپر کوئی آلائش نہ ہو جو تمہیں تمہارے خدا کی بقا سے ایک لحظہ کے لیے بھی دور کرنے کا باعث بنے اور تا تم اس کے سب سے بڑے انعام یعنی دیدار الہی کے وارث بنو۔دیدار الہی سب سے بڑا انعام ہے جو جنتیوں کو دیا جائے گا جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے: ولكن المُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَةُ المَوْتُ بيرَ بِرِضْوَانِ الله وَكَرَامَتِهِ ، فَلَيْسَ شَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَا أَمَامَهُ، فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ وَأَحَبَ اللهُ لِقَاءَهُ، وَإِنَّ الكَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُرَ يعذاب الله وَعُقُوبَتِهِ، فَلَيْسَ شَيْ : أَكْرَةَ إِلَيْهِ مَا أَمَامَهُ، كَرِةَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِدَ اللهُ لِقَاءَهُ (صحيح البخاري، كتاب الرقاق، باب مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ الله أَحَبَ اللهُ لِقَاءَهُ، روایت نمبر۷ ۶۵۰) ترجمہ : اور جب مومن پر موت کا وقت آئے گا تو اسے اللہ کی رضا اور عزت افزائی کی بشارت دی جائے گی اور اس کے لیے اس سے زیادہ پیاری کوئی چیز نہیں ہو گی جو اس کے سامنے (اللہ کی محبت کی صورت میں) ہو گی وہ اللہ سے ملاقات کا متمنی ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کا مشتاق، اور کافر پر جب موت کا وقت آئے گا تو اسے اللہ کے عذاب اور سزا کی خبر دی جائے گی اور اس کے لیے اپنے سامنے اس سے زیادہ کوئی چیز نا پسندیدہ نہیں ہوگی۔وہ اللہ کی ملاقات کو نا پسند کرے گا اور اللہ اس سے ملنانا پسند کرے گا۔