صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 378
یح البخاری جلد ۱۲ ۳۷۸ ٨٥ سُورَةُ البُرُوج -۲۵ کتاب التفسير / البروج وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْأَخْدُود (البروج : ٥) اور مجاہد نے کہا: الأخدود سے مراد وہ نالی ہے شَقٌ فِي الْأَرْضِ، فَتَنوا (البروج: ۱۱) جو زمین میں کھودی جائے۔فتنوا کے معنی ہیں عَذَّبُوا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ الْوَدُود اُنہوں نے تکلیف دی۔اور حضرت ابن عباس نے (البروج: ١٥) الْحَبِيبُ الْمَجِيد کہا: الْوَدُود کے معنی ہیں بہت محبت کرنے والا۔(البروج: ١٦) الكَرِيمُ۔المجید کے معنی ہیں بہت عزت والا۔تشریح: سُورَةُ الْبُرُوحِ : اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے بر جوں والے آسمان کی قسم کھائی ہے۔سورۃ کو قسم کے الفاظ سے شروع کیا گیا ہے۔قسم یا شہادت کسی ایسے واقعہ کے متعلق ہی ہوتی ہے جو آئندہ زمانہ میں ہونے والا ہو۔پس اس میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آئندہ بھی بچے مذہب کی مخالفت اور دشمنی کی آگ جلائی جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ الہی سلسلہ کو محفوظ رکھے گا اور مخالفین اپنے عزائم میں ناکام رہیں گے تاہم مؤمنوں کو قربانیاں پیش کرتے ہوئے اس آگ کو گل و گلزار بنانا ہو گا۔الأخدود سے مراد وہ نالی ہے جو زمین میں کھودی جائے فرماتا ہے: قُتِلَ أَصْحَبُ الْخُدُودِ (البروج : ۵) خندقوں والے ہلاک ہو گئے۔اس میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو گذشتہ زمانے میں ہوا۔اس میں ایک بھٹی کا ذکر آتا ہے اور یہ کہ اس میں آگ جلائی گئی اور اس میں تین آدمی پھینکے گئے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بادشاہ اور اس کے ساتھی اس نظارہ کو دیکھتے رہے۔( دانی ایل باب ۳) اس قسم کے واقعات ماضی میں بھی ہوئے۔جن کے متعلق روایات امام مسلم اور ترمذی نے اپنی کتب میں درج کی ہیں۔مگر امام بخاری نے اپنی شرائط کے مطابق اُن کو نظر انداز کر دیا ہے اور اس سورۃ کے چند کلمات کے معنی بیان کر کے اُن واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے۔اور دیگر ود فتنوا کے معنی ہیں انہوں نے تکلیف دی۔فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنتِ ثُمَّ لَم يَتُوبُو عَذَابٌ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ ( البروج (۱۱) وہ لوگ جنہوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو عذاب میں مبتلا کیا پھر اپنے فعل سے ) تو یہ بھی نہ کی انہیں یقینا جہنم کا عذاب ملے گا۔اور (اس دنیا میں بھی ) انہیں (دل کو) جلا دینے والا عذاب ملے گا۔(ترجمہ تفسیر صغیر) فتَنُوا کے ایک معنی ہیں اُنہوں نے تکلیف دی۔اور فتنہ کے ایک معنی عذاب کے بھی ہیں۔فتنہ بمعنی عذاب قرآن کریم میں کئی جگہ بیان ہوا ہے، جیسے فرمایا: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ (الذاریات: ۱۴) یعنی اس وقت جب انہیں آگ کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔(صحيح مسلم، کتاب الزهد والرقائق، باب قِصَّةِ أَصْحَابِ الْأُخْدُودِ وَالسَّاجِرِ وَالرَّاهِبِ وَالْغُلَامِ ) (سنن الترمذی، ابواب تفسیر القرآن، بَاب وَمِن سُورَةِ البُرُوج)