صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 377
حیح البخاری جلد ۱۲ ۳۷۷ ۶۵ - كتاب التفسير / اذا السماء انشقت أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ نے ہمیں خبر دی، کہ ابوبشر جعفر بن ایاس نے ہمیں بْنُ إِيَاسٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ بتایا، اُنہوں نے مجاہد سے روایت کی، مجاہد نے کہا: عَبَّاسِ لَتَرْكَبُنَ طَبَقًا عَن طبق (الانشقاق :۲۰) حضرت ابن عباس کہتے تھے: لتركبنَ طَبَقًا عَنْ حَالًا بَعْدَ حَالٍ، قَالَ هَذَا نَبِيُّكُمْ طَبَقٍ سے مراد ہے کہ ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلتے چلے جاؤ گے، تمہارے نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔تشریح یح: صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے۔لتَرْكَبُنَ طَبَقًا عَنْ طَبَق : تم درجہ بدرجہ ترقی کرتے چلے جاؤ گے۔الطبق کے معنی ہیں الْقَرْنُ مِنَ الزَّمَانِ یعنی ایک صدی۔النّاسُ یعنی ایک زمانہ کے لوگ۔الْجَمَاعَةُ یعنی جماعت ، الحال یعنی حال(اقرب الموارد- طبق) طبق سے انسان کی جسمانی اور روحانی حالتیں مراد لی گئی ہیں نیز یہ بھی کہ اس سے مراد اسلام کے مختلف ادوار کا بیان ہے۔شارحین نے انسان کی جسمانی حالتوں پر اس کو چسپاں کرتے ہوئے تیس سے زائد حالتوں کا بیان کیا ہے۔امام ابن حجر نے اس سے انسانی وجود کی تخلیق کے مختلف مراحل مراد لئے ہیں۔جو ان کے نزدیک یہ ہیں: پیدائش سے پہلے کی حالت جنین کہلاتی ہے۔پیدائش کے بعد حیثی، پھر جب دودھ چھوڑنے کی عمر آتی ہے تو غلام ، اور جب سات سال کا ہوتا ہے تو تافع، اور جب دس سال کا ہو تو حزور، اور پندرہ سال کا محمد، اور پچیس سال کا عنظنظ، اور تیس سال کا حمل، اور چالیس سال کی عمر میں گھل، اور پچاس سال کا ہو تو شیخ، اور اتنی سال کی عمر میں ھے ، اور نوے سال فان۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۸۹۱، ۸۹۲)