صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 17 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 17

حیح البخاری جلد ۱۲ ۱۷ ۶۵ کتاب التفسير / المؤمن تشریح : قَالَ مُجَاهِدٌ حَمَ فَجَاؤُهَا فَجَارُ أَوَائِلِ السُّورِ : مجاہد نے کہا ہے کہ حروف حمد اسی طرح آئے ہیں جیسے دوسری سورتوں کی ابتداء میں حروف مقطعات ہیں۔بعض نے شریح بن ابی اوفی کے ایک شعر سے استدلال کرتے ہوئے اسے اسم قرار دیا ہے۔یہ شعر شریح نے جنگِ جمل میں اس وقت پڑھا تھا جب اُس کا مقابلہ حضرت طلحہ کے بیٹے محمد سے ہوا۔شریح نے جب ان کی طرف نیزہ اٹھایا تو محمد بن طلحہ نے لمہ سے شروع ہونے والی اس سورۃ کی آیت کریمہ القتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ (المؤمن:۲۹) پڑھی۔یعنی کیا تم ایسے شخص کو مارتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔لیکن شریح نے اس کے باوجود انہیں مار ڈالا اور یہ شعر پڑھا جس کا مطلب ہے کہ وہ مجھ کو حصہ یاد دلاتا ہے جبکہ نیزہ چلنے لگا ہے۔لڑائی میں آنے سے قبل اس نے کیوں خم نہ پڑھی۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ خم حضرت علی کی فوج کا ” شعار “ تھا اور محمد بن طلحہ حمد کہہ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حامی ہونے کا اظہار کر رہے تھے۔اس شعر میں خم مفعول یہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اعراب کے آنے کو اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ یہ اسم ہے کیونکہ حروف پر اعراب نہیں آیا کرتے۔لیکن طبری نے بیان کیا ہے کہ حروف مقطعات کی قراءت کرتے ہوئے انہیں الگ الگ اس طرح پڑھتے ہیں کہ آخر کو ساکن کیا جاتا ہے۔یعنی ان پر اعراب کا نہ ہونا یہ بتاتا ہے کہ یہ حروف ہیں اسماء نہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۷۰۵) (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحه ۱۴۷) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس مضمون پر انتہائی بسط سے روشنی ڈالی ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ چونکہ یہ حروف الگ الگ بولے جاتے ہیں، انہیں حروف مقطعات کہتے ہیں۔ان میں اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا ذکر ہے جن کی تشریح بعد کی سورۃ میں کی گئی ہے اور صفات کے پہلے حروف یا بعض اہم حروف کو مضمون کی طرف اشارہ کرنے کے لیے بیان کر دیا گیا۔یہی معنی سب سے زیادہ درست اور شانِ قرآن اور شہادتِ قرآن کے مطابق ہیں۔“ ( تفسیر کبیر، سورۃ البقرة، تفسیر آیت ۲، جلد اوّل صفحه (۶۱) آپ نے حاء کو حمید کا اور میم کو چین کا قائم مقام قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ سورۃ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اُس کی بزرگی کو ثابت کرتی ہے۔(تفسیر صغیر، سورة المؤمن، ترجمه وحاشیه آیت نمبر ۲) الطول: اس لفظ سے اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے : غَافِرِ الذَّنْبِ وَ قَابِلِ النُّوبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطول لا إلهَ إِلا هُوَ الَيْهِ البَصِيرُ (المؤمن: ۴) جو گناہوں کا بخشے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے (اور اس وجہ سے حمد کا مستحق ہے) سزا دینے میں سخت ہے، بڑا احسان کرنے والا ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف لوٹ کر جاتا ہے۔الگول کے معنی الفضل ابو عبیدہ سے مروی ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۰۵) تفضل لفظ میں احسان کرنا اور قدر و منزلت میں فضیلت رکھنا ہر دو معانی شامل ہیں۔امام بخاری نے اس لفظ کے ذکر سے اس طرف