صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 376
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - كتاب التفسير / اذا السماء انشقت ذَاكِ الْعَرْضُ يُعْرَضُونَ وَمَنْ نُوقِش شخص جو اپنی کتاب اپنے دائیں ہاتھ میں دیا جائے الْحِسَابَ هَلَكَ۔أطرافه: ١٠٣، ٦٥٣٦، ٦٥٣٧ - تشریح : مريح گا۔عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔آپ نے فرمایا: یہ تو حساب کا پیش کرنا ہے جو اُن کے سامنے پیش کیا جائے گا اور جس کے حساب میں چھان بین کی جائے گی وہ تباہ ہو گا۔۔فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا: عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”حساب يسير صرف بندہ کے لیے اس کے اعمال کا اس کے سامنے پیش کر دینا ہے۔اور اس کی خطاؤں سے چشم پوشی و در گزر کرنا ہے۔امام احمد حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا فرمائی اللَّهُم حاسبني حساباً يسيرًا۔پوچھا کہ حساب یسیر کیا ہے فرمایا صرف نامۂ اعمال کا پیش کرنا اور درگزر فرمانا ہے۔اور فرمایا مَنْ نُو قِشَ فِي الْحِسَابِ عُذِّبَ۔جس کے حساب میں کرید کی گئی، وہ مُعَذِّب ہو گا۔ابوہریرہ سے مروی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین خصلتیں ہیں کہ ان سے حساب یسیر ہوگا۔ایک یہ کہ جو اسے محروم رکھے اور نہ دے، اسے دیا کرے۔دوسرے یہ کہ جو ظلم کرے اس کو معاف کرے۔تیسرے جو اس سے قطع رحمی کرے وہ اس سے وصل کرے۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۳۴۹) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال کرنے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کے نزدیک بھی جو حدیث بظاہر قرآن مجید کے مخالف معلوم ہوتی، اس کے متعلق سوال کرنا خلاف ادب نہیں سمجھا جاتا تھا۔صحابہ قرآن مجید کو اصل سمجھتے تھے اور حدیث کو اس کے تابع۔باب ۲ : لَتَرْكَبُنَ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ (الانشقاق: ٢٠) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) تم درجہ بدرجہ ترقی کرتے چلے جاؤ گے ٤٩٤٠ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ النَّضْرِ ۴۹۴۰: سعید بن نضر نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشیم