صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 373
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۷۳ ۶۵ - كتاب التفسير / اذا السماء انشقت ٨٤- سُورَةُ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتُ قَالَ مُجَاهِدٌ كِتْبَهُ بِشِمَالِه (الحاقة : ٢٦) مجاہد نے کہا: کتبہ بِشِمَالِیہ سے یہ مراد ہے کہ يَأْخُذُ كِتَابَهُ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ، وَسَقَ وہ اپنی کتاب کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے لے گا۔(الانشقاق: ۱۸) جَمَعَ مِنْ دَابَّةٍ ظَنَّ وَسَقَ سے مراد ہے کہ (رات) جن جانوروں کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ظَنَّ أَن لَّن يَحُور کے أن لَّن يَحُورَ (الانشقاق : ١٥) لَا يَرْجِعَ لر ہ معنی ہیں کہ اس نے گمان کیا کہ وہ ہماری طرف إِلَيْنَا۔{ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ يُوعُونَ نہیں لوٹے گا۔اور حضرت ابن عباس نے کہا: يُوعُونَ کے معنی ہیں وہ چھپاتے ہیں۔(الانشقاق: ٢٤) يُسِرُّونَ } تشريح۔سُورَةُ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتُ: حضرت خلیفة الحج الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سورتوں کے گزشتہ اسلوب کو بر قرار رکھتے ہوئے ایک دفعہ پھر دنیا میں رونما ہونے والی عظیم تبدیلیوں کو آخرت پر گواہ ٹھہرایا گیا ہے ایک دفعہ پھر آسمان کے پھٹ جانے کا ذکر ہے جس کا ایک معنی یہ ہے کہ طرح طرح کی بلاؤں کا نزول ہو گا۔اس کے بعد یہ پیشگوئی ہے کہ جب دن اندھیروں میں تبدیل ہو رہا ہو گا اور پھر رات چھا جائے گی اور ایک دفعہ پھر اسلام کا چاند طلوع ہو گا، اس دن تم درجہ بدرجہ اپنی ترقی کی آخری منازل طے کر رہے ہو گے۔“ ( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورۃ الانشقاق صفحه ۱۱۴۶) إذا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ (الانشقاق: ۲) کے معنی ہیں کہ آسمان پھٹ گیا یا یہ کہ آسمان ظاہر ہو گیا انشقاق کے دراصل دوہی نتیجے ہوتے ہیں۔اول کوئی چیز پھٹ کر ناکارہ ہو گئی۔دوم جو چیز پیچھے رکی ہوئی تھی وہ باہر آگئی۔آسمان کے پھٹنے سے مراد نزول رحمت و برکات کا رُک جانا بھی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ان آیتوں سے یہ مراد نہیں ہے کہ در حقیقت اُس وقت آسمان پھٹ جائے گا یا اُس کی قوتیں مست ہو جائیں گی بلکہ مدعا یہ ہے کہ جیسے پھٹی ہوئی چیز بیکار ہو جاتی ہے ایسا ہی آسمان بھی بیکار سا ہو جائے گا۔آسمان سے فیوض نازل نہیں ہونگے اور دنیا ظلمت اور تاریکی سے بھر جائے گی۔" (شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۹) 1 یہ عبارت نسفی کے نسخہ کے مطابق صحیح بخاری میں ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۸۹۰)