صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 371
-۶۵ کتاب التفسير / ويل للمطففين صحیح البخاری جلد ۱۲ ختمة مسك : فرماتا ہے ختمهُ مِسْكَ، وَفِي ذَلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ (المطففین: ۲۷) اُس کے آخر میں مشک ہو گا، اور چاہیئے کہ خواہش رکھنے والے (انسان) ایسی (ہی) چیز کی خواہش کریں۔(ترجمہ تفسیر صغیر ) ختام خَتَمَ کا مصدر ہے اور اس کے معنی ہیں اَلفَصُّ مِنْ مَفَاصِلِ الْخَيْلِ، وَالْمَقْطَعُ، وَالطين يختم به (اقرب الموارد۔ختم ) یعنی خشام گھوڑے کے جوڑ کو کہتے ہیں۔اسی طرح خشاہ نظم کے آخری شعر کو بھی کہتے ہیں اور ختامہ اس مٹی کو بھی کہتے ہیں جس کے ذریعہ (کسی دوسری چیز پر مہر لگائی جائے۔پس ختامُهُ مِشن کے یہ معنی ہوئے کہ وہ مُنہ بند کرنے والی چیز مشک کی ہو گی یا اُس کا آخری حصہ مشک ہو گا یا اس کے انتہاء تک مشک ہو گا۔بَاب يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ ) (المطففين: ٧) جس وقت ( تمام ) لوگ سب جہانوں کے رب ( کا فیصلہ سننے ) کے لیے کھڑے ہوں گے ٤٩٣٨ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ :۴۹۳۸ ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مَعْنْ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ معن بن عیسی) نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: الله مالک نے مجھے بتایا، انہوں نے نافع سے ، نافع نے نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يَوْمَ يَقُومُ قَالَ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ سے مراد یہ ہے کہ لوگ (المطففين: ٧) حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ قیامت کے دن رب العالمین کے سامنے کھڑے فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ۔طرفه: ٦٥٣١۔ہوں گے اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ ان میں سے ایک اپنے آدھے کانوں تک پسینہ میں ڈوبا ہو گا۔تشريح : يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِورب العلمين : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 47899 " يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ میں درحقیقت يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنفسٍ شَيْئًا (الانفطار : ۲۰) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اب تو یہ مشرقی اور مغربی، گورے اور کالے، یورو چین اور ایشیائی میں فرق کرتے ہیں مگر ایک دن آئے گا جب یہ لوگ اُس خدا کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے جو رب العالمین ہے۔وہ اس وقت ان لوگوں سے ان مظالم کے بارہ میں باز پرس کرے گا اور کہے گا کہ کیوں تم نے ایک طبقہ کو ذلیل کیا۔اور کیوں اُس کو محکوم و مغلوب