صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 370
صحیح البخاری جلد ۱۲ ٣٧٠ ۶۵ - كتاب التفسير / ويل للمطففين إِذَا أَذْنَبَ ذَنْبًا نُكِتَتْ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ قَلْبُهُ وَإِنْ عَادَ زَادَتْ حَتَّى تَغْلُفَ قَلْبُهُ فَذَالِكَ الرَّيْنُ الَّذِي ذَكَرَهُ اللهُ سُبْحَانَهُ فِي وغیرہ الْقُرْآنِ كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ - احمد ، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور ابن جریر رہ سب نے بتغیر الفاظ اس روایت کے اس روایت کو بیان کیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ہ کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو نکتت في قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ڈال دیا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ بدی کی رغبت اُس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے فان تاب اگر وہ توبہ کرلے ونزع اور اپنے نفس کو پیچھے کھینچ لے وَاسْتَغْفَرَ اور استغفار کرے تو صقل قلبہ اُس کا دل صاف ہو جاتا ہے وان عاد اور اگر وہ پھر گناہ کرے تو زَادَتْ حَتَّى تَغْلُفَ قَلْبُهُ یہ سیاہی بڑھتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ ایک دن اُس کے دل کو بالکل ڈھانپ لیتی ہے اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا فذالك الرين الَّذِي ذَكَرَهُ اللهُ سُبْحَانَهُ فِي الْقُرْآنِ یعنی اسی حالت کی طرف قرآن کریم نے دین کے لفظ سے اشارہ فرمایا ہے۔“ " ( تفسير كبير ، سورة التطفيف، زیر آیت كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِم جلد ۸ صفحه ۳۰۵،۳۰۴) نوب کے معنی ہیں بدلہ دیا گیا۔ یہ ابو عبیدہ کا قول ہے اور فریابی نے مجاہد سے یہی معنی نقل کئے ہیں۔ ( فتح الباری، جزء ۸ صفحه ۸۹ اللہ تعالی فرماتا ہے: هَلْ ثُوبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (المطففين:۳۷) (اور آپس میں نہیں ۸۸۹) گے کہ) کیا کافروں کو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ( اس کا پورا بدلہ مل گیا (یا نہیں ؟) (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نُوبَ الْكُفَّارُ یا تو يَنْظُرُونَ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے کہ وہ دیکھیں گے کہ بدلہ کفار کو پورا پورا مل گیا ہے یا نہیں اور یا پھر اس کے یہ معنے ہیں کہ يُقَالُ لَهُمْ هَلْ ثُوبَ کفار سے کہا جائے گا کہ بتاؤ تمہارے اعمال کے نتائج نکل آئے ہیں یا نہیں تم سمجھتے تھے کہ اس تخفیف اور ظلم کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور تمہارا غلبہ قیامت تک چلتا چلا ئے گا اور عیسائی حکومتیں جو ظلم چاہیں گی لوگوں پر ڈھاتی رہیں گی۔ اب بتاؤ تمہیں جائے؟ اپنے مظالم کا بدلہ مل گیا ہے یا نہیں ملا ؟“ ( تفسیر کبیر ، سورة التطفيف، زير آيت هَل تُوبَ الْكُفَّارُ ، جلد ۸ صفحه ۳۲۸)