صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 369
صحیح البخاری جلد ۱۲ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۶۵ - كتاب التفسير ويل للمطففين رین اصل میں زنگ کو کہتے ہیں اور زنگ اس بات کا نام ہوتا ہے کہ جس چیز پر زنگ لگا ہے وہ اپنی ذات میں گھلنی شروع ہوگئی ہے۔زنگ اس کو کہتے ہیں کہ کوئی باہر کی چیز اثر کر کے دوسری چیز میں تغیر پیدا کر دیتی ہے۔لوہے کو زنگ لگتا ہے تو اس کا بھی یہی مطلب ہوتا ہے کہ باہر سے نمی پہنچی اور اس کا آکسائیڈ بننا شروع ہو گیا یا تانبہ COPPER کو زنگ لگتا ہے تو اس کا بھی یہی مطلب ہوتا ہے کہ اُس میں بیرونی اثرات کی وجہ سے تغیر پیدا ہو نا شروع ہو گیا ہے۔پس دین کا لفظ اس مفہوم پر دلالت کرتا ہے کہ کسی چیز کے اندر تغیر پیدا ہو نا شروع ہو گیا ہے اور وہ اپنی ماہیت کو چھوڑ بیٹھتی ہے۔اس تغیر کا اظہار کرنے کے لئے دین کا لفظ بولا جاتا ہے لیکن طبع کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اُس نے دوسرے کے نقش کو قبول کر لیا کیونکہ طبع کے معنے مہر کے ہوتے ہیں۔پس جب ہم طبع کا لفظ بولتے ہیں تو ہمارا اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ اُس نے دوسرے کے نقش کو قبول کر لیا۔اس کے مقابلہ میں جب ہم اقفال کا لفظ بولتے ہیں تو ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب یہ چیز اپنے زور سے نہیں گھل سکتی۔خدا ہی اس کو کھولے تو یہ کھل سکتی ہے۔پس یہ تین قسم کی الگ الگ کیفیتیں ہیں جن کے لئے رین، طبع اور اقفال کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔یہاں دین کا لفظ یہ بتانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے کہ اُن پر بیرونی گناہوں کا اس قدر اثر ہوا ہے کہ قلب جو نیکی کا منبع تھا اُس کی ماہیت ہی بدل گئی ہے اور وہ اب بدی پر دلیر ہو گیا ہے لیکن طبع میں یہ بتایا گیا ہے کہ اُن کے دلوں پر گناہوں کا ٹھپہ لگ گیا ہے یعنی وہ چوٹی کے گنہگار ہو گئے ہیں کیونکہ ٹھپہ والی چیز معیاری چیز ہوتی ہے۔اور اقفال کے لفظ نے یہ بتایا کہ اُن کی حالت ایسی ہو چکی ہے کہ اب اللہ تعالٰی ہی اُن کے دلوں کے تالے کھولے تو وہ کھلیں گے کوئی انسان اُن کو کھولنے کی طاقت نہیں رکھتا یعنی آپ اپنی اصلاح کرنی اُن کے اختیار سے باہر ہو گئی ہے۔دین کے متعلق رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ایک حدیث مروی ہے جو یہ ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَبْدِ