صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 368 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 368

صحیح البخاری جلد ۱۲ MYA ۶۵ - كتاب التفسير / ويل للمطففين ۸۳- سُورَةُ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے وَقَالَ مُجَاهِدٌ رَانَ (المطففین: ١٥) اور مجاہد نے کہا: ران سے مراد گناہوں کا ( ان کے ثَبْتُ الْخَطَايَا ثُوبَ (المطففين: ۳۷) دل میں) جسم جانا ہے۔توب کے معنی ہیں بدلہ دیا جُوزِيَ۔الرَّحِيقُ الْخَمْرُ خِتْبُهُ مِسْكَ گیا۔الرَّحِیقُ کے معنی ہیں شراب۔خطبه مِسك (المطففين: ٢٧) طِينُهُ التَّسْنِيمُ يَعْلُو سے مراد ہے اس کی فطرت میں مشک ہو گا۔(اور ) شَرَابَ أَهْلِ الْجَنَّةِ۔وَقَالَ غَيْرُهُ تسنیم اہل جنت کی شراب کو بلندشان کر دے گی۔ردو اور ان کے سوا اوروں نے کہا: المُطفّف سے مراد الْمُطَفِّفُ لَا يُوَقِي غَيْرَهُ يَوْمَ يَقُومُ ہے وہ جو دوسروں کو پورا ماپ تول کر نہ دے۔جس وقت (تمام) لوگ سب جہانوں کے رب ( کا فیصلہ سننے کے لیے کھڑے ہوں گے تو المطفف وہ ہو ، گاجو دوسروں کو پورا ماپ تول کر نہ دے۔النَّاسُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (المطففين: ٧) ح سُورَةُ وَيْلٌ لِلْمُطفّفين: حضرت خلیفة الحج الرابع رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: اس سورۃ میں ایک دفعہ پھر میزان کی طرف انسان کو متوجہ فرمایا گیا ہے کہ تم تبھی کامیاب ہو سکتے ہو اگر عدل پر قائم ہو یہ نہ ہو کہ لینے کے پیمانے اور ہوں اور بانٹنے کے پیمانے اور۔اس میں اس دور کی تجارت کا بھی تجزیہ فرما دیا گیا ہے بڑی بڑی امیر قومیں جب بھی غریب قوموں سے سودا کرتی ہیں تو لازماً اس سودے میں ہمیشہ غریب قوموں کا نقصان ہوتا ہے۔فرمایا کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ ایک بہت بڑے حساب کتاب کے دن وہ اکٹھے کیے جائیں گے جس میں ان کے دنیا کے سودوں کا بھی حساب ہو گا۔“ (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفہ المسیح الرابع، تعارف سورۃ المطففین صفحه ۱۱۴۱) ران: فرماتا ہے: كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (المطففین: ۱۵) ہر گز (ایسا) نہیں (جیسے وہ کہتے ہیں) بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) ان کے دلوں پر اس نے جو وہ کما چکے ہیں زنگ لگا دیا ہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) ران سے مراد گناہوں کا ( ان کے دل میں) جم جاتا ہے۔امام راغب کہتے ہیں کہ دان سے مراد وہ زنگ ہے جو اُن کے دلوں کی روشنی پر پڑ گیا اور وہ خیر اور شر کی پہچان کھو بیٹھے۔(المفردات فی غریب القرآن۔رین)