صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 16 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 16

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۶ ۶۵ - کتاب التفسير / المؤمن مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُبَشِّرًا جنت کی بشارت دی جائے۔اللہ نے تو محمد صلی اللہ بِالْجَنَّةِ لِمَنْ أَطَاعَهُ وَمُنْذِرًا بِالنَّارِ لِمَنْ علیہ وسلم کو صرف اطاعت کرنے والوں کے لئے عَصَاهُ۔بطور مبشر بھیجا ہے کہ اُن کو جنت کی بشارت دے اور نافرمانوں کے لئے بطور نذیر بھیجا ہے کہ اُن کو آگ سے ڈرائے۔٤٨١٥: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا :۴۸۱۵ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ وليد بن مسلم نے ہمیں بتایا کہ اوزاعی نے ہم سے قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ بیان کیا۔انہوں نے کہا : یحی بن ابی کثیر نے مجھے حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ قَالَ بتایا۔کہتے تھے : محمد بن ابراہیم تیمی نے مجھ سے حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ قُلْتُ بیان کیا، کہا: عروہ بن زبیر نے مجھ سے بیان کیا، لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَخْبِرْنِي کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے کہا: جو سخت ترین سلوک مشرکوں نے رسول اللہ بِأَشَدِ مَا صَنَعَ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا وہ مجھے بتائیں۔انہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِفِنَاءِ صحن میں نماز پڑھ رہے تھے اتنے میں عقبہ بن ابی الْكَعْبَةِ إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي معيط محيط آیا۔اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فَأَخَذَ بِمَنْكِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ کندھا پکڑا اور اپنا کپڑا آپ کی گردن میں لپیٹ کر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوَى ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ اس کو انتہائی زور سے گھونٹا۔اتنے میں حضرت فَخَنَقَهُ خَنْقًا شَدِيدًا فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ ابو بکر آن پہنچے۔انہوں نے عقبہ کا کندھا پکڑا اور فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ وَدَفَعَ عَنْ رَّسُولِ اللهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو ہٹایا اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَتَقْتُلُونَ کہا: کیا تم ایسے شخص کو مارتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس تمہارے بالْبَيِّنَتِ مِنْ رَّبِّكُمُ (المؤمن: ٢٩) رب کی طرف سے کھلے کھلے دلائل لایا ہے۔اطرافه: ٣٦٧٨، ٣٨٥٦۔