صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 366 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 366

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۶۶ ۶۵ - كتاب التفسير / اذا السماء انفطرت زمانہ میں سمندروں کو پھاڑ کر آپس میں ملا دیں گے چنانچہ اس کی نمایاں مثال نہر سویز اور نہر پانامہ پیش کرتی ہیں اور یہ دونوں عیسائیوں کی بنائی ہوئی نہریں ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں بڑی بڑی شاندار نہریں پائی جاتی ہیں۔ایرانیوں نے بھی نہریں بنائی ہیں۔پٹھانوں نے بھی بنائی ہیں اور مغلوں نے بھی بنائی ہیں مگر اس فن میں گو یورپ نے بڑی ترقی کی ہے مگر وہ منفرد اور موجد نہیں مگر اس آیت میں جو علامت بتائی گئی ہے کہ سمندر پھاڑ کر آپس میں ملا دیئے جائیں گے اس میں یورپ منفرد ہے اس سے پہلے دو سمندروں کو زمین پھاڑ کر نہیں ملایا گیا۔سورہ تکویر کی آیت وَإِذَا البحار سحرت کی تشریح میں دریاؤں سے نہریں نکالے جانے کا مفہوم اس بناء پر بیان کیا گیا تھا کہ وہ سورۃ آخری زمانہ سے تعلق رکھنے والے عام حالات کی طرف راہنمائی کرتی تھی لیکن یہ سورۃ ایسی ہے جس کا عیسائیوں کے ساتھ خاص طور پر تعلق ہے اور اس سورۃ میں انہی علامات کا ذکر پایا جاتا ہے جو مخصوص طور پر عیسائی اقوام میں پائی جانے والی تھیں اور چونکہ سمندروں کو پھاڑ کر آپس میں ملا دینے کی اس سے پہلے اور کوئی مثال دنیا میں نہیں ملتی اس لئے پہلی آیت میں جہاں عام حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بحار سے دریا مراد لئے گئے تھے وہاں اس جگہ عیسائیوں کے مخصوص حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بحار سے سمندر مراد لئے جائیں گے اور معنے یہ ہوں گے کہ وہ سمندروں کو چیر کر ایک دوسرے سے ملا دیں گے۔“ ( تفسیر کبیر، سورۃ انفطار، زیر آیت وَ إِذَا الْبِحَارُ فَجَرَتْ جلد ۸ صفحه (۲۵۱) فعد لك: عدل کے ایک معنی نقص دور کرنے کے بھی ہوتے ہیں جیسے کہتے ہیں عَدَلَ السَّهُمَ : أَقَامَهُ تیر کو بالکل سیدھا کیا اور اس کے نقص کو دور کر دیا۔اسی طرح عدال کے معنی موازنہ کرنے کے بھی ہوتے ہیں چنانچہ عدل فلانا کے معنی ہوتے ہیں وارنہ اس کا موازنہ کیا۔(اقرب الموارد۔عدال) فَعَد لَكَ : فرمایا الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوكَ فَعَد لَكَ (الانفطار : ٨) وہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا۔پھر تجھے اعتدال بخشا۔(ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفہ المسیح الرابع)