صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 365
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۶۵ ۶۵ - كتاب التفسير / اذا السماء انفطرت ۸۲_ سُورَةُ إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے وَ قَالَ الرَّبِيعُ بْنُ حُنَيْمِ اور ربیع بن خثیم نے کہا: فجرت کے معنی ہیں بہہ فُجْرَتْ (الانفطار : ٤) فَاضَتْ ، وَقَرَأَ نکلے اور اعمش اور عاصم نے فعدلت کو تخفیف سے الْأَعْمَسُ وَعَاصِمٌ فَعَد لَكَ (الانفطار : (۸) پڑھا ہے اور اہل حجاز نے اس کو تشدید سے پڑھا ہے بِالتَّخْفِيفِ، وَقَرَأَهُ أَهْلُ الْحِجَازِ اور اس سے مراد یہ لیا ہے کہ معتدل بناوٹ اور بِالتَّشْدِيدِ، وَأَرَادَ مُعْتَدِلَ الْخَلْقِ وَمَنْ جس نے مخفف کیا اس نے یہ مراد لی جس صورت خَفَّفَ يَعْنِي فِي أَيّ صُورَةٍ شَاءَ إِمَّا میں چاہا تجھے ڈھال دیا خوبصورت یا بد صورت، حَسَنْ وَ إِمَّا قَبِيحٌ، أَوْ طَوِيلٌ أَوْ قَصِيرٌ لما یا چھوٹا۔۔تشريح: سُورَةُ إذَا السَّمَاء انفطرت : حضرت خليفة الست الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سمندر کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات دہرائی گئی کہ صرف سمندروں میں ہی کثرت سے جہاز رانی نہیں ہوگی اور ان کے راز دریافت کرنے کے لئے ان کو پھاڑا نہیں جائے گا بلکہ خشکی پر بھی آثار قدیمہ والے گزشتہ زمانہ کی مدفون تہذیبوں کی قبریں اکھیڑیں گے۔اُس دن انسان کو معلوم ہو جائے گا کہ اس سے پہلے بنی نوع انسان اپنے آگے کیا بھیجتے رہے ہیں اور بعد کے دور کے آنے والے بھی کیا آگے بھیجیں گے۔“ ( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورۃ الانفطار صفحہ ۱۱۳۸) فجرت کے معنی ہیں بہہ نکلے۔فرمایا: وَإِذَا الْبِحَارُ فَجَرَتْ (الانفطار : ۴) اور جب سمندر پھاڑ کر ملا دیئے جائیں گے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بتا چکا ہوں کہ سورہ انفطار میں ایک مخصوص مضمون کی طرف اشارہ ہے جو عیسائیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس لئے یہ سب علامات عیسائیوں پر چسپاں ہوں گی۔میں سمجھتا ہوں اس آیت کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ عیسائی اپنی ترقی کے