صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 364
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۶۴ ۶۵ - کتاب التفسير / اذا الشمس كورت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وہ زمانہ آتا ہے کہ جبکہ بچھڑے ہوئے لوگ باہم ملا دیئے جائیں گے اور اس قدر با ہمی ملاقاتوں کے لئے سہولتیں میسر آجائیں گی اور اس کثرت سے ان کی ملاقاتیں ہوں گی کہ گویا مختلف ملکوں کے لوگ ایک ہی ملک کے باشندے ہیں سو یہ پیشگوئی ہمارے اس زمانہ میں پوری ہو گئی جس سے ایک عالمگیر انقلاب ظہور میں آیا گویا دنیا بدل گئی کیونکہ دُخانی جہازوں اور ریلوں کے ذریعہ سے وہ روکیں جو پہاڑوں کی مانند حائل تھیں سب اُٹھ گئیں اور ایک دنیا مشرق سے مغرب کو اور مغرب سے مشرق بلاد کو آتی ہے۔“ (چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۳٬۸۲) عَسْعَسَ کے معنی ہیں پیٹھ پھیر کر چل دیا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وو عَسْعَسَ اضداد سے ہے جس کے معنے آنے اور جانے کے ہیں۔یعنی کفر گیا اور اس کی جگہ اسلام نے لے لی ہے۔عَسْعَسَ کے لفظ سے زمین کا گول ہونا بھی ثابت ہو تا ہے کہ ایک طرف سے ظلمت روشنی پر چڑھی چلی آتی ہے تو ساتھ ہی دوسری طرف سے پیچھے سے روشنی ظلمت پر سوار ہو رہی ہے اور یہ ہو نہیں سکتا جب تک زمین گول نہ مانی جاوے۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۳۳۵)