صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 363 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 363

صحیح البخاری جلد ۱۲ ٣٦٣ ۶۵ - کتاب التفسير / اذا الشمس كورت عمل پیرا ہوں گے اور اس پر ثابت قدم رہیں گے ان کے لئے جنت نزدیک کر دی جائے گی۔ہر شخص کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنے لئے آگے کیا بھیجا ہے۔“ ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع تعارف سورۃ التکویر صفحه ۱۱۳۴) امام بخاری نے اس سورۃ کے جن کلمات کا انتخاب کر کے ان کے معنی بیان کئے ہیں وہ خلاصہ اس سورۃ کے مضامین کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔جن میں بڑے بڑے انقلابات کو چند الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ان کی کچھ تفصیل ذیل میں دی گئی ہے: سجرت کے معنی ہیں اس کا پانی خشک ہو جائے اور ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سجر کے معنی خشک کر دینے کے بھی ہوتے ہیں۔اور اسی لیے مفسرین نے اس کے یہ معنے کیے ہیں کہ دریا خشک کر دیئے جائیں گے لیکن سجر کے یہ بھی معنے ہوتے ہیں کہ اس کا پانی نکال کر اپنی مرضی کے مطابق کہیں لے جائیں جو نہروں کا اصول ہے۔لے پس دونوں لحاظ سے یہی معنے بنتے ہیں کہ نہریں نکال نکال کر دریاؤں کو خشک کیا جائے گا۔نہ کہ ان کا پانی آسمان کی طرف اُڑا کر خشک کیا جائے گا۔(تفسیر صغیر سورۃ التکویر ، حاشیہ آیت نمبرے) سجوت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ سمندر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور سب ایک ہی سمندر ہو جائے گا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ موجودہ زمانہ کی خبر ہے اور آخری زمانہ میں انجنیرنگ کی ترقی پر دلالت کرتی ہے۔چنانچہ اس وقت پاکستان میں بھی کئی دریا ملائے جا رہے ہیں اور ہندوستان میں بھی اور روس اور امریکہ میں بھی اور جرمن میں تو ربع صدی سے ملائے جاچکے ہیں۔“ ( تفسیر صغیر سورۃ التکویر، حاشیه آیت نمبر۷) وَقَالَ عُمَرُ النُّفُوسُ زُوجَت اور حضرت عمرؓ نے کہا: اس سے یہ مراد ہے کہ جنتیوں اور دوزخیوں میں سے ہر شخص کو اپنے جیسا جوڑا دیا جائے گا۔حضرت عمر کے بیان فرمودہ ان معنوں کا تعلق آخرت سے ہے۔نیز اس سورۃ کی پیشگوئیوں کا تعلق آخری زمانے سے بھی ہے۔(اقرب الموارد - سجر)