صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 362
صحیح البخاری جلد ۱۲ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ۶۵ - کتاب التفسير / اذا الشمس كورت " قرآن کریم دنیا میں رونما ہونے والے عظیم واقعات کی خبر دیتا ہے جو قیامت کی گھڑی پر گواہ ٹھہریں گے۔اور گواہ ٹھہرایا گیا ہے سورج کو جب اسے ڈھانپ دیا جائے گا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی کو اس زمانہ کے دشمن بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے نہیں پہنچنے دیں گے اور ان کا مکر وہ پراپیگنڈا پیچ میں حائل ہو جائے گا۔اور جب صحابہ کے نور کو بھی دشمن کی طرف سے گدلا دیا جائے گا اور جس طرح سورج کے بعد ستارے کسی حد تک روشنی کا کام دیتے ہیں اسی طرح صحابہ کا نور بھی انسان کی نظر سے زائل کر دیا جائے گا۔یہ وہ زمانہ ہو گا جبکہ بڑے بڑے پہاڑ چلائے جائیں گے یعنی پہاڑوں کی طرح بڑے بڑے سمندری جہاز بھی اور فضائی جہاز بھی سفر اور بار برداری کے لئے استعمال ہوں گے اور اونٹنیاں ان کے مقابل پر بے کار کی طرح چھوڑ دی جائیں گی۔یہ وہ زمانہ ہو گا جب کثرت سے چڑیا گھر بنائے جائیں گے۔ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کا کوئی وجو د نہیں تھا اور اس زمانہ کے چڑیا گھر بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ اتنے بڑے بڑے جانور سمندری اور ہوائی جہازوں کے ذریعہ ان میں منتقل کئے جاتے ہیں کہ اُس زمانہ کے انسان کو اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا۔پھر غالباً سمندری لڑائیوں کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی گئی ہے جب کثرت سے سمندروں میں جہاز رانی ہو گی اور اس کے نتیجہ میں دُور دُور کے لوگ آپس میں ملائے جائیں گے یعنی صرف جانور ہی اکٹھے نہیں کئے جائیں گے بلکہ بنی نوع انسان بھی ملائے جائیں گے۔وہ دور قانون کا دور ہو گا یعنی تمام دنیا پر قانون کی حکمرانی ہو گی یہاں تک کہ انسان کو یہ بھی اختیار نہیں دیا جائے گا کہ خود اپنی اولاد کے ساتھ ظلم کا سلوک کرے۔۔۔یہ دور کثرت سے کتب و رسائل کی اشاعت کا دور ہو گا اور آسمان کے رازوں کی جستجو کرنے والے گویا آسمان کی کھال ادھیڑ دیں گے۔اس دن دوزخ بھی بھڑکائی جائے گی جو جنگ کی دوزخ بھی ہو گی اور آسمانی غضب کی دوزخ بھی ہو گی۔اس کے باوجو د جو لوگ اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر