صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 360 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 360

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۶۰ ۶۵ - كتاب التفسير / عبس ہاتھ میں تھا جو اُسے لے کر دُنیا کے مختلف ملکوں میں پھیل گئے اور سَفَرَة مُكَرّم ہو گئے اس لئے کہ اُن کے ہاتھ میں وہ کتاب تھی جو بڑی عزت والی تھی۔گویا یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے لازم ملزوم تھیں۔یہ جوش جو کسی شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے کہ میں اس چیز کو اپنے ہاتھ میں لیکر باہر نکل جاؤں اسی لئے پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس چیز کو مُکرمہ سمجھتا ہے اور اُسے یقین ہوتا ہے کہ اس چیز کو پھیلانا میری عزت کا موجب ہے مگر جب وہ اسے پھیلا دیتا ہے تو اس کا طبعی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ خود بھی مکرم بن جاتا ہے کیونکہ وہ ایسی چیز کو پھیلاتا ہے جو تکریم رکھنے والی ہوتی ہے۔گویا قرآن کا مکرم ہونا سَفَرَة کی وجہ سے تھا اور سَفَرَة کا مگڑھ ہونا قرآن کی وجہ سے تھا۔قرآن مسلمانوں کی عزت کا باعث ہوا۔اور مسلمان قرآن کی عزت کو بڑھانے کا باعث ہوئے جیسے ایک مشینری چکر کھاتی چلی جاتی ہے اسی طرح ایک طرف قرآن نے صحابہ کو اونچا کیا اور دوسری طرف صحابہ نے قرآن کو اونچا کیا۔صحابہ قرآن کی عزت بڑھانے کا موجب ہوتے تھے اور قرآن صحابہ کی عزت بڑھانے کا موجب ہوتا تھا۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ عبس، زیر آیت پایدانی سَفَرَةٍ۔۔جلد ۸ صفحه ۱۷۴) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے اُن کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۳)