صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 359 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 359

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۵۹ ۶۵ - كتاب التفسير / عبس کے آدمیوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔گویا رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنے والوں کو ان کی اپنی حالت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اے معترض ! تو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ کہتا ہے کہ جو مستغنی ہوتا ہے اس کی طرف وہ زیادہ توجہ کرتے ہیں اور جو غریب اور معمولی درجہ کا آدمی ہوتا ہے اس کی طرف وہ کوئی توجہ نہیں کرتے۔حالانکہ اے معترض تُو جو کچھ کہہ رہا ہے یہ تیری اپنی حالت ہے اور تیرا ذاتی رویہ واقعہ میں ایسا ہی ہے کہ تو اُمراء کی طرف توجہ کرتا ہے اور غرباء کو نظر انداز کر دیتا ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورة عبس، زیر آیت فَانتَ لَه تصدی جلد ۸ صفحه ۱۲۰،۱۵۹) تَرْهَقُهَا قَتَرَةُ کے معنی ہیں اس پر مصیبت چھا گئی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فرماتا ہے اُس دن کچھ چہرے ایسے ہوں گے جن پر غبار پڑا ہوا ہو گا۔مطلب یہ ہوا کہ پہلے دن اُن کے منہ پر مٹی لگے گی اور پھر اُن کے سارے جسم کو ڈھانپ لے گی۔جانور کو جب ذبح کرنے کے لئے لٹایا جاتا ہے تو پہلے اُس کے منہ کو مٹی لگتی ہے لیکن جب اُسے ذبح کیا جاتا ہے تو وہ تڑپتا ہے اور اس تڑپنے کی وجہ سے اُس کے سارے جسم پر مٹی لگ جاتی ہے۔اسی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ان کو ذبح کرنے کے لئے پہلے ہم زمین پر لٹائیں گے جس سے اُن کے منہ پر مٹی لگے گی مگر جب اُنہیں ذبح کیا جائے گا اور یہ تڑپنا شروع کریں گے۔تو پھر اُن کا سارا جسم مٹی سے ڈھانپا جائے گا گویا کفار کی کامل تباہی کی خبر دی گئی ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ عبس، زیر آیت ترهقها قَتَرَةٌ جلد ۸ صفحه ۱۸۷) بایدی سفر کے الفاظ سے امام بخاری نے ان آیات کی طرف اشارہ کیا ہے : مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَ بِايْدِی سَفَرَةٍ كِرَاهِم بَرَرَةٍ (عبس : ۱۵ - ۱۷) جو بلند و بالا کئے ہوئے، بہت پاک رکھے گئے ہیں۔لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں۔(جو) بہت معزز ( اور ) بڑے نیک ہیں۔(ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن کریم کی تین صفات جو اس جگہ بیان کی گئی ہیں وہ حاملین قرآن کی تین صفات کے مقابل میں رکھی گئی ہیں اور اس طرح بتایا گیا ہے کہ ان میں سے ایک چیز دوسری چیز کا سبب ہے چنانچہ دیکھ لو قرآن مُكَرَّمہ ہو گیا اس لئے کہ وہ سَفَرَة کے