صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 358
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۵۸ ۶۵ - كتاب التفسير / عبس کرنا محض لحاظ کے طور پر نہیں ہو سکتا تھا بلکہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو سردار مقرر فرمایا تو اس لئے کہ ان میں امارت کی قابلیت تھی اور اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ عرب ان کی خاندانی عظم عظمت کی وجہ سے انہیں اپنا سردار تسلیم کرنے میں کوئی تکلیف محسوس نہیں کریں گے ۔ کیونکہ عرب کے دستور کے مطابق کوئی ایسا شخص امیر مقرر نہیں کیا جا سکتا تھا جس کا خاندانی لحاظ سے لوگوں پر اثر نہ ہوتا۔ اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی امیر مقرر کیا ہمیشہ انہی لوگوں کو کیا جو خاندانی لحاظ سے عظمت و شہرت کے مالک ہوتے تھے اور جن کے متعلق یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ لوگوں کو اُن کی اطاعت سے کوئی گریز نہیں ہو گا۔ پس یہ سمجھنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک حقیر آدمی آیا اور آپؐ نے اُس کی طرف محض اُس کی غربت اور عدم عزت کی وجہ سے توجہ نہ کی بالبداہت باطل ہے اور یہ اتنا موٹا مضمون ہے کہ تعجب آتا ہے مسلمانوں کی سمجھ میں کیوں نہیں آیا حالانکہ بعض دشمنان اسلام کی سمجھ میں آگیا ہے چنانچہ نولڈ کے (NOLDEKE) جو مشہور جرمن مستشرق ہے وہ یہ واقعہ لکھ کر کہتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹا واقعہ ہے عبداللہ بن ام مکتوم کا شجرہ نسب بتا رہا ہے کہ وہ کوئی معمولی آدمی نہیں تھا۔ اور اس لئے یہ بات اس کے متعلق ہرگز نہیں ہو سکتی گویا اُس کا ذہن بھی اِدھر چلا گیا کہ یہ واقعہ یہاں چسپاں نہیں ہوتا۔ حالانکہ اگر یہ بات درست ہوتی تو اس کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوتی ہے مگر وہ کہتا ہے یہ بات واقعات کے بالکل خلاف ہے اور اسے ان آیات پر چسپاں نہیں کیا جا سکتا۔“ (تفسیر کبیر، سورة عبس، زیر آیت عَبَسَ وَ تَوَلَّى ، جلد ۸ صفحه ۱۴۸ تا ۱۵۰) تصدی کے معنی ہیں وہ عمد ابے خبر ہو جاتا ہے، اس سے چشم پوشی کرتا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” یہاں عام انسانوں کی حالت بیان کرتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اعتراض کرنے والوں کا اپنا حال بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کی اپنی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ بڑے لوگوں کی طرف تو توجہ کرتے ہیں لیکن چھوٹے درجہ