صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 357
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۵۷ ۶۵ - كتاب التفسير / عبس حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” اس روایت کے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ عبد اللہ بن ام مکتوم کون تھا۔عبد اللہ بن ام مکتوم حضرت خدیجہ کے بھائی تھے یعنی اُن کے ماموں کے بیٹے تھے اُن کے نام اور نسب کے متعلق قریب کے ناموں میں اختلاف ہے مگر قوم کے لحاظ سے سب اس بات پر متفق ہیں کہ بنی عامر بن لوی میں سے تھے۔اُن کا نام اور نسب نامہ بعض عبد اللہ بن شریح بن مالک بن ربیعہ الفہری بتاتے ہیں اور بعض عبد اللہ بن عمرو بن قیس ابن زائدہ بن الاعصم بتاتے ہیں اور بعض اُن کا نام ہی عمر و بن قیس ابن زائدہ بتاتے ہیں (روح المعانی ) یہ ابن ام مکتوم کیوں کہلاتے ہیں اس کے متعلق زمخشری نے لکھا ہے کہ ام مکتوم اُن کی دادی کا نام تھا۔لیکن ابن عبد البر اور دوسرے مورخین کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے اُن کے نزدیک یہ اُن کی والدہ کی کنیت ہے اور ان کا اصل نام عاتکہ بنت عامر بن مخزوم تھا۔اُن کی کنیت ام مکتوم اس لئے تھی کہ یہ پیدا ہی اندھے ہوئے تھے۔اس شجرہ نسب کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنے سے میری غرض یہ ہے کہ یہ کہنا کہ وہ حقیر آدمی تھے اور اُن کی طرف رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی توجہ مفید نہیں ہو سکتی تھی ان واقعات سے بالبداہت غلط ثابت ہوتا ہے اس لئے کہ ان کی والدہ اور والد دونوں زبر دست قبائل میں سے ہیں۔اور یہ ایک ایسی عورت کے بھائی ہیں جس کی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے دل میں انتہاء درجہ کی عزت تھی اور اس حد تک عزت تھی کہ اُن کی وفات کے سالوں بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اُن پر رشک آجاتا تھا۔پس حضرت خدیجہ کے بھائی اور ماں اور باپ دونوں کی طرف سے زبر دست خاندانوں کے فرد کی عظمت صرف نابینا ہونے کی وجہ سے تو نہیں کی جاسکتی تھی۔آخر تبلیغ زبان سے کی جاتی ہے آنکھوں سے تو نہیں کی جاتی۔پس یہ کہنا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھا کہ ایک حقیر اندھا آدمی میرے پاس آیا ہے میں بڑے بڑے لوگوں کو چھوڑ کر ایسے غریب اور معمولی آدمی کی طرف کیوں توجہ کروں بالبداہت واقعات سے غلط ثابت ہوتا ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو دو دفعہ مدینہ کا سردار مقرر کیا اور یہ سردار مقرر