صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 15
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۵ ٤٠ سُوْرَةُ الْمُؤْمِنِ ۶۵ - کتاب التفسير / المؤمن قَالَ مُجَاهِدٌ { حم} مَجَاؤُهَا مجاہد نے کہا: خم۔یہ (حروف مقطعات) استعمال مَجَازُ أَوَائِلِ السُّوَرِ وَيُقَالُ بَلْ هُوَ میں اسی طرح ہیں جیسے دوسری سورتوں کے ابتداء اسْمٌ لِقَوْلِ شُرَيْحٍ بْنِ أَبِي أَوْفَى میں لکھے گئے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نہیں، بلکہ یہ نام ہے کیونکہ شریح بن ابی اوفی عبیسی نے کہا ہے: الْعَبْسِي: يُذَكِّرُنِي حَامِيْمَ وَالرُّمْحُ شَاجِرٌ وہ مجھے تم یاد دلاتا ہے جبکہ نیزہ نیزے سے الجھا ہوا فَهَلَّا تَلَا حَامِيْمَ قَبْلَ التَّقَدُّمِ تھا۔آگے بڑھنے سے پہلے کیوں نہ اس نے ملخم پڑھی الطول ( المؤمن: ٤) التَّفَضُلُ ذَخِرِينَ الطول کے معنی ہیں احسان۔ذخرین یعنی ذلیل (المؤمن: ٦١) خَاضِعِينَ۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ و خوار۔اور مجاہد نے کہا: (ادْعُوكُمْ إِلَى النّجوة إلى النجوة (المؤمن: ٤٢) الْإِيمَانُ لَيْسَ سے مراد ہے میں تمہیں نجات یعنی ایمان کی طرف لَهُ دَعْوَةٌ (المؤمن: ٤٤) يَعْنِي الْوَثَنَ بلاتا ہوں۔کیس لئے دعوةٌ یعنی بت کسی کی دعا نہیں قبول کر سکتا۔يُسْجَدُونَ : ان پر آگ سلگائی يُسْجَرُونَ (المؤمن :۷۳) تُوقَدُ بِهِمُ النَّارُ۔جائے گی۔تمرحُونَ کے معنی ہیں اتراتے پھرتے تَمرَحُونَ (المؤمن: ٧٦) تَبْطَرُونَ۔وَكَانَ تھے۔اور علاء بن زیاد آگ سے ڈرا ( کر وعظ و الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ يُذَكِّرُ النَّارَ فَقَالَ رَجُلٌ نصیحت کر ) رہے تھے ، ایک شخص نے کہا: تم لوگوں لِمَ تُقَنِّطُ النَّاسَ قَالَ وَأَنَا أَقْدِرُ أَنْ أُقَبْطَ کو نااُمید کیوں کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا: کیا میں النَّاسَ وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يُعِبَادِي طاقت رکھتا ہوں کہ لوگوں کو نا امید کروں جبکہ اللہ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ عزوجل فرماتا ہے:اے میرے بندو! جنہوں نے رَّحْمَةِ اللهِ (الزمر: ٥٤) وَيَقُولُ وَ أَنَّ اپنی جان پر ( گناہ کر سکے ) ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَبُ النَّارِ (المؤمن: ٤٤) سے مایوس نہ ہو۔اور فرماتا ہے کہ حد سے گذرنے وَلَكِنَّكُمْ تُحِبُّونَ أَنْ تُبَشِّرُوا بِالْجَنَّةِ والے لوگ دوزخی ہیں۔مگر بات یہ ہے کہ تم یہ عَلَى مَسَاوِئِ أَعْمَالِكُمْ وَإِنَّمَا بَعَثَ الله چاہتے ہو کہ بُرے اعمال کرنے کے باوجود تمہیں یہ لفظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۷۰۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔