صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 356
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۵۶ ۶۵ - كتاب التفسير / عبس ورنہ اگر کسی ایک واقعہ کو مخصوص کر لیں تو پھر قرآن مجید کی عظمت جو اس کے عام اور ابدی ہونے میں ہے کم ہو جاتی ہے۔ غرض اس کی ابتدائی آیات کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجمع قریش میں تبلیغ فرمار ہے تھے۔ اسی اثناء میں عبد اللہ بن ام مکتوم جو نابینا تھے دوڑتے ہوئے آئے اور آپ سے امر دین میں کچھ دریافت کرنا چاہا چونکہ وہ نابینا تھے، انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ یہاں کن لوگوں کو حضرت خطاب کر رہے ہیں۔ اور آداب الرسول کے موافق انہیں کیا طرز اختیار کرنا چاہیے۔ وفورِ شوق اور اخلاص سے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابن ام مکتوم کا یہ فعل پسند نہ آیا۔ اور اس کے آثار آپ کے چہرہ پر ظاہر ہوئے۔ اور کافروں کی طرف منہ پھیر کر ان سے باتیں کرنے لگے۔ آپ کے اس فعل پر اللہ تعالیٰ نے عتاب کیا۔ صحیح روایت میں ہے کہ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم کی بڑی دلداری کی اور اپنی چادر بچھا کر اسے بٹھایا۔ یہ واقعہ آنحضرت کی صداقت اور قرآن کریم کے کلام الہی ہونے کا زبردست ثبوت ہے۔ اگر یہ کلام الہی نہ ہوتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے فرستادہ اور سچے نبی نہ ہوتے تو یہ اس میں درج نہ ہوتا۔ جو گویا عتاب کا رنگ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر خدا تعالیٰ کی کتاب اور وحی پر ایمان نہ رکھتے تو پھر اس کی تلافی نہ فرماتے۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۳۲۶،۳۲۵) عَبَسَ وَ تَوَلَّی: یعنی منہ بنایا اور اعراض کیا۔ دیکھے۔ اس آیت میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعد اللہ علیہ وسلم بعض سردارانِ قریش کو تبلیغ فرما رہے تھے اور حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم نے مداخلت کرتے ہوئے اپنی بات کرنی چاہی۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ لیہ وسلم کے چرو پر نا گوار کے آثار ظاہر ہوئے جو یہ اپنا مالی تونہ رکھ سکتے تھے گروہ سردار آپ کی اس کیفیت کو چہرہ ناگواری نابینا نابینا صحابی بھانپ گئے۔ اگر چہ قصور حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم کا تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رنگ میں اس پر رد عمل ظاہر فرمایا کہ عبد اللہ کے جذبات کو بھی ٹھیس نہ لگے اور سردارانِ قریش کی واجبی تو قیر بھی قائم رہے۔ اور آپ اس بات کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے کہ اگر آپ کی گفتگو کے دوران کوئی قطع کلامی کرتا تو آپ اس کی طرف التفات نہ فرماتے اور اپنی گفتگو جاری رکھتے اور بات مکمل ہونے پر اس سے مخاطب ہوتے تفصیل کے لیے دیکھئے صحیح البخاری، كتاب العلم ، باب من سئل علما وهو مشتغل في حديثه