صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 355
صحیح البخاری جلد ۱۲ يُقَالُ وَاحِدُ الْأَسْفَارِ سِفْرٌ۔ ۳۵۵ ۶۵ - كتاب التفسير / عبس چمکتے ہوئے بِايْدِی سَفَرَةِ کے معنی ہیں لکھنے والوں کے ہاتھوں میں) اور حضرت ابن عباس نے فرمایا: (سَفَرَةِ کے معنی ہیں) کا تب۔ (اور اسی سے) اسفَارًا (ہے) یعنی کتا بیں۔ تکھی کے معنی ہیں تو اس سے غافل رہتا ہے۔ (کھیل میں لگ جاتا ہے۔) کہا جاتا ہے کہ أَسْفَارُ کا مفرد سفر ہے۔ ٤٩٣٧ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۴۹۳۷ آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ کیا کہ شعبہ بن حجاج) نے ہمیں بتایا ، (کہا: ) قتادہ أَوْفَى يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زرارہ بن اوٹی کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ سعد بن قَالَ مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ ہشام سے روایت ہے۔ سعد نے حضرت عائشہ سے ، حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حَافِظٌ لَهُ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جو شخص قرآن پڑھتا وَمَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ ہے اور وہ اس کا حافظ ہے اس کی اعلیٰ درجہ کے يَتَعَاهَدُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَدِيدٌ فَلَهُ أَجْرَانِ نیکو کار معزز، لکھنے والوں کی سی حالت ہوگی اور جو شخص قرآن پڑھتا اور اس کو بار بار یاد کرتا ہے مگر اس کے لئے مشکل ہوتا ہے تو اس کو دو ثواب ملیں گے۔ تشريح : سُورَةُ عَبَس: حضرت خلیفہ اصبح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سورۃ کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ جس کا ذکر میں ابھی کروں گا۔ اس سے پہلے اس امر کو یاد رکھنا چاہیئے کہ شان نزول سے ہمیشہ یہ مراد نہیں ہوتا کہ ان آیات کے نزول سے وہی امر مراد ہے جو شان نزول کے تحت میں بیان کیا جاتا ہے۔ بلکہ اصل یہ ہے کہ وحی الہی کے نزول کے کچھ اسباب ہوتے ہیں۔ ان میں سے اس واقعہ پر بھی وہ آیات چسپاں ہوتی ہیں