صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 354
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۵۴ ۶۵ - كتاب التفسير / عبس بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۸۰ سُورَةُ عَبَسَ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے عَبَسَ وَ تَوَلَّى (عبس:۲) كَلَحَ وَأَعْرَضَ عَبَسَ و توتی کے معنی ہیں منہ بنایا اور اعراض کیا وَقَالَ غَيْرُهُ مُطَهَّرَة (عبس: ١٥) لا اور ان کے سوا اوروں نے کہا: مُطهَّرة (یعنی يَمَسُّهَا إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ وَهُمُ الْمَلَائِكَةُ ، پاکیزہ اور لَا يَمَسُّهَا إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (یعنی جو وَهَذَا مِثْلُ قَوْلِهِ فَالْمُدَتِراتِ آمرا پاک ہیں وہی قرآن کو چھوتے ہیں) سے مراد (النازعات: ٦) جَعَلَ الْمَلَائِكَةَ ملائکہ ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرح وَالصُّحْفَ مُطَهَّرَةٌ لِأَنَّ الصُّحُفَ يَقَعُ ہے فَالْمُد براتِ أَمْرًا (وہ جو کہ سلسلہ قوم کی عَلَيْهَا التَّطْهِيرُ، فَجُعِلَ التَّطْهِيرُ لِمَنْ تدبیر کرتے ہیں) یعنی ملائکہ اور صحیفوں کو پاکیزہ قرار دیا کیونکہ صحیفوں کی صفت تطہیر ہے اور اس حَمَلَهَا أَيْضًا۔سَفَرَة (عبس: ١٦) الْمَلَائِكَةُ وَاحِدُهُمْ سَافِرٌ، سَفَرْتُ لئے تطہیر ان کی بھی صفت بنائی گئی جو ان کو أَصْلَحْتُ بَيْنَهُمْ، وَجُعِلَتِ الْمَلَائِكَةُ اٹھاتے ہیں۔سفرة یعنی فرشتے اس کا مفرد سافر ہے۔(عرب کہتے ہیں:) سَفَرتُ یعنی میں إِذَا نَزَلَتْ بِوَحْيِ اللَّهِ وَتَأْدِيَتِهِ كَالسَّفِيرِ نے ان کے درمیان اصلاح کر دی اور ملائکہ کو الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ الْقَوْمِ۔وَقَالَ غَيْرُهُ جب وہ اللہ کی وحی لے کر نازل ہوتے ہیں اور اس تصدی (عبس : ٧) تَغَافَلَ عَنْهُ۔وَقَالَ کو پہنچاتے ہیں، اس سفیر کی طرح قرار دیا گیا جو مُجَاهِدٌ لَمَّا يَقْضِ (عبس: ٢٤) لَا قوم کے درمیان صلح کراتا ہے اور ان کے سوا يَقْضِي أَحَدٌ مَا أُمِرَ بِهِ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ اوروں نے کہا: تصدی کے معنی ہیں وہ عمد آبے خبر تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ (عبس :٤٢) تَغْشَاهَا ہو جاتا ہے، اس سے چشم پوشی کرتا ہے اور مجاہد شِدَّةٌ مُسْفِرَةٌ (عبس : ٣٩) مُشْرِقَةٌ نے کہا: لَمَّا يَقْضِ کے معنی ہیں یعنی کوئی بھی جو بِايْدِى سَفَرَةِ ( عبس : ١٦) وَقَالَ ابْنُ اس کو حکم دیا گیا پورے طور پر ادا نہیں کرتا اور عَبَّاسِ كَتَبَةٍ۔أَسْفَارًا (الجمعة : ٦) حضرت ابن عباس نے کہا: تَرهَقُهَا قَتَرَةٌ کے معنی كتبا۔تلهى (عبس: ۱۱) تَشَاغَل ہیں اس پر مصیبت چھا گئی۔مسفر کے معنی ہیں