صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 353
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۵۳ ۶۵ - کتاب التفسير والنازعات (النازعات:٣٠) أَظْلَمَ۔العَامَّةُ اس نے تاریک بنایا۔الطامة سے مراد وہ ہے جو (النازعات: (٣٥) تَطْمُ كُلَّ شَيْءٍ۔} ہر چیز پر پھیل جائے گی۔رح : بُعِثْتُ وَ السَّاعَةَ كَھاتین : میری بعثت اور وہ گھڑی ان دو کی طرح ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: أنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ یعنی میں اور قیامت اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں کہ جس طرح میری یہ دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں (اور یہ الفاظ فرماتے ہوئے آپ نے اپنی دو انگلیاں کھڑی کر کے ایک دوسرے کے ساتھ پیوست کر دیں۔) اس لطیف حدیث کا بھی یہ مطلب ہر گز نہیں کہ میری وفات کے معابعد قیامت آجائے گی۔کیونکہ یہ بات نہ صرف واقعات بلکہ آپ کی بعثت کی غرض وغایت کے بھی خلاف ہے کہ آپ کے معا بعد قیامت آجاوے۔پس اس حدیث میں بھی یقیناً یہی اشارہ کرنا مقصود ہے کہ میر ادورِ شریعت قیامت تک چلے گا اور میرے بعد کوئی اور شریعت نہیں آئے گی جو میری شریعت کو منسوخ کر کے ایک نیا دور شروع کر دے۔خلاصہ کلام یہ کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خداداد مشن مکانی لحاظ سے وسیع اور غیر محدود ہے اور دنیا کی کوئی قوم آپ کی دعوت سے باہر نہیں اسی طرح زمانی لحاظ سے بھی آپ کا مشن کسی ایک زمانہ تک محدود نہیں بلکہ قیامت تک وسیع اور غیر محدود ہے۔“ (سیرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، صفحہ ۸۹۴) (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم بعثت انا والساعة كهاتين، روایت نمبر ۶۵۰۵) (صحیح مسلم ، کتاب الجمعة ، باب تخفيف الصلاة والخطبة)