صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 352
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۵۲ ۶۵ - کتاب التفسير والنازعات حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ پیشگوئیوں میں وقت کا بتانا ضروری نہیں ہوتا اور نہ اس سے اصل معاملہ کا کوئی تعلق ہوتا ہے جب تم پر عذاب ہی آنا ہے تو وہ دو دن پہلے آگیا یا دو دن بعد میں آگیا۔اس سے اصل پیشگوئی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔۔۔دشمن کا ہمیشہ یہ سوال رہتا ہے کہ جب ایک پیشگوئی کی گئی ہے تو اس کے پورا ہونے کی تاریخ بھی بتا دی جائے اور اس امر کا بھی اظہار کر دیا جائے کہ ایسا کب ہو گا مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہیں اس سے کیا واسطہ۔جب پیشگوئی پوری ہو گئی تم میں سے ہر شخص کو نظر آجائے گا کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ کہا تھا وہ سچ ثابت ہوا۔تمہیں اس کی تاریخ اور وقت اگر بتا بھی دیا جائے تو تمہیں اس سے کیا فائدہ ہو گا۔“ ( تفسیر کبیر، سورة النازعات، زير آيت يستلونَكَ عَنِ السَّاعَةِ جلد ۸ صفحه (۱۴۱) الرَّاحِفَةُ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاحِفَةُ O (النازعات: ۷) ( ان صفات والی قوم کے ظہور کا وہ دن ہو گا) جس دن جنگ ( کی تیاری کرنے والی ( قوم) جنگ کی تیاری کرے گی۔(ترجمہ تفسیر صغیر) باب ۱ ٤٩٣٦: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ۴۹۳۶: احمد بن مقدام نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا فضیل بن سلیمان نے ہمیں بتایا کہ ابو حازم نے ہم أَبُو حَازِمٍ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدِ سے بیان کیا انہوں نے کہا:) حضرت سہل بن سعد اللهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے کہا: میں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِإِصْبَعَيْهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے اپنی هَكَذَا بِالْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ دونوں انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا یعنی درمیانی رَضِيَ بُعِثْتُ وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْن۔انگلی سے اور اس سے جو انگوٹھے سے ملی ہے کہ میری بعثت اور وہ گھڑی ان دو کی طرح ہے۔اطرافه: ٥٣٠١، ٦٥٠٣۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أغطش حضرت ابن عباس نے فرمایا: أَغطش کے معنی ہیں یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحه ۲۷۸)