صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 350 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 350

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۵۰ ۶۵ - کتاب التفسير / والنازعات ٧٩ سُورَةُ وَالنَّازِعَاتِ (ہڈی) اور النَّاخِرَةُ وہ کھو کھلی ہڈی ہے جس کے وَقَالَ مُجَاهِدٌ : الآية الكبرى اور مجاہد نے کہا: الآية الکبری سے مراد حضرت (النازعات: ۲۱) عَصَاهُ وَيَدُهُ، يُقَالُ موسیٰ کا عصا اور ان کا ہاتھ ہے۔کہا جاتا ہے کہ النَّاخِرَةُ وَالنَّخِرَةُ سَوَاءٌ مِثْلُ الطَّامِع النَّاخِرَةُ اور النَّخِرَةُ دونوں ایک سے ہیں جیسے وَالطَّمِعِ، وَالْبَاخِلِ وَالْبَخِيل۔وَقَالَ طَامِع اور طمع اور تاخیل اور بخیل۔اور ان میں سے بعض نے کہا اور نخرة کے معنی ہیں بوسیدہ بَعْضُهُمْ وَالنَّخِرَةُ الْبَالِيَةُ وَالنَّاخِرَةُ الْعَظْمُ الْمُجَوّفُ الَّذِي تَمُرُّ فِيهِ الرِّيحُ اندر سے ہوا گزرے تو وہ کھر کھراہٹ کی آواز فَيَنْخَرُ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ الْحَافِرَةِ دے اور حضرت ابن عباس نے کہا: الْحَافِرَةِ کے (النازعات: ١١) إِلَى أَمْرِنَا الْأَوَّلِ إِلَى معنی ہیں ہماری وہ پہلی حالت جو ( دنیا کی) زندگی الْحَيَاةِ۔وَقَالَ غَيْرُهُ آيَان مُرسها میں ہوئی ہے اور ان کے سوا اوروں نے کہا: (النازعات: ٤٣) مَتَى مُنْتَهَاهَا، وَمُرْسَى أَيَّانَ مُرْسَستها یعنی اس کی انتہا کہاں ہے۔اور السَّفِينَةِ حَيْثُ تَنْتَهِي { الرَّاحِفَةُ مُرْسَى السَّفينة وہ جگہ ہے جہاں کشتی آکر ٹھہر (النازعات (٧) النَّفْخَةُ الْأُولَى جاتی ہے۔الزاحِفَةُ کے معنی ہیں پہلی بار (صور کا) الرَّادِفَةُ التَّفْحَةُ الثَّانِيَةُ۔پھونکا جانا، الرّادِفَةُ کے معنی ہیں دوسری بار (صور کا) پھونکا جانا۔تشریح: الآية الكبير الله عالی فرماتا ہے فارية الآیة البیری (النازعات: ۲۱) چنانچہ (موسی گئے اور انہوں نے) اسے ایک بڑا نشان دکھلایا۔(ترجمہ تفسیر صغیر) مجاہد نے کہا: الآیة الکبری سے مراد حضرت موسیٰ کا عصا اور ان کا ہاتھ ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سوال یہ ہے کہ جب فرعون کو بہت سے نشانات دکھائے گئے تو پھر آیت کبری سے کونسا نشان مراد ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ سورہ طہ سے ہی ظاہر ہے پہلے دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عصا کا معجزہ دکھایا تھا۔یہاں بھی چونکہ فرعون سے پہلی ملاقات کا ہی ذکر ہے اس لئے آیت کبری سے مراد عصا والا معجزہ یہ الفاظ عمدة القاری کے مطابق ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۷۷)