صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 349
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۴۹ ۶۵ - كتاب التفسير / عم يتساءلون وَهُوَ عَجَبُ الذَّنَبِ وَمِنْهُ يُرَكَبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : اور وہ ریڑھ کا آخری سرا ہے۔ اور اس سے قیامت کے دن ڈھانچا ترکیب دیا جائے گا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ وہاں جسم تو ضرور ہو گا مگر وہ ایک روحانی جسم ہو گا یہ موجودہ جسم نہیں ہو گا۔ یہ جسم مٹی میں مل کر فنا ہو جائے گا البتہ اس کے کسی بار یک حصہ کو لے کر جسے در حقیقت روحانی حصہ ہی کہنا چاہئیے ؟ نت روحانی حصہ ہی کہنا چاہئیے اللہ تعالیٰ اُسے نشو و نما دینا شروع کر دے گا اور اُسے انسان کا جسم بنا دے گا۔ انسان اپنے ذہن میں اس جسم کو اسی جسم کا ایک تسلسل سمجھے گا اور یہی یقین رکھے گا کہ میں وہی آدمی ہوں جو دنیا میں ہوا کرتا تھا مگر وہ جسم اور ہو گا۔“ تفسير كبير ، سورۃ النباء زیر آیت يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَيكَةُ صَفًّا جلد ۸ صفحه (۶۱)