صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 348
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۴۸ ۶۵ - کتاب التفسير / عم يتساءلون أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي کیا کہ ابو معاویہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اعمش سے، اعمش نے ابو صالح سے، ابو صالح نے قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ النَّفْحَتَيْنِ أَرْبَعُونَ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قَالَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا؟ قَالَ أَبَيْتُ قَالَ (صور کی) دو پھونکوں کے درمیان چالیس کا فاصلہ أَرْبَعُونَ شَهْرًا؟ قَالَ أَبَيْتُ قَالَ ہو گا۔ لوگوں نے پوچھا: چالیس دن؟ حضرت أَرْبَعُونَ سَنَةً؟ قَالَ أَبَيْتُ قَالَ ثُمَّ ابوہریرہ نے فرمایا: میں نہیں کہہ سکتا۔ انہوں نے پوچھا: چالیس مہینے ؟ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا: يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيَنْبُتُونَ میں نہیں کہہ سکتا۔ لوگوں نے پوچھا: چالیس سال ؟ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ، لَيْسَ مِنَ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا : میں نہیں کہہ سکتا۔ الْإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلَى، إِلَّا عَظْمًا حضرت ابوہریرہ نے فرمایا : پھر اس کے بعد اللہ وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْهُ آسمان سے مینہ برسائے گا اور لوگ اس طرح يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ نشو و نما پائیں گے جیسے سبزیاں نشو و نما پاتی ہیں۔ آدمی سے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی جو بوسیدہ نہ ہو جائے سوائے ایک ہڈی کے اور وہ ریڑھ کا آخری سرا ہے۔ اور اسی سے قیامت کے دن ڈھانچا ترکیب دیا جائے گا۔ طرفه : ٤٨١٤ - تشريح : يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ : جس دن صور میں پھونکا جائے گا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: صور کا لفظ ہمیشہ عظیم الشان تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے گویا جب خدا تعالیٰ اپنی مخلوقات کو ایک صورت سے منتقل کر کے دوسری صورت میں لاتا ہے تو اس تغیر صور کے وقت کو نفخ صور سے تعبیر کرتے ہیں اور اہل کشف پر مکاشفات کی رو سے اس صور کا ایک وجود جسمانی بھی محسوس ہوتا ہے اور یہ عجائبات اس عالم میں سے ہیں جن کے سر اس دنیا میں بجز منقطعین کے اور کسی پر کھل نہیں سکتے۔“ (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه (۳۱۲)