صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 347
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ ۳۴۷ -٦ - كتاب التفسير/عم يتساءلون حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " عطاء کا لفظ جزاء کے لئے مفعول مطلق کے طور پر استعمال ہوا ہے یعنی یہ ایسی جزاء ہو گی جو حساب کے مطابق ہوگی۔حساب کے مطابق جزاء ہونے سے بظاہر اس امر پر زور معلوم ہوتا ہے کہ وہاں حساب سے زیادہ جزاء نہیں ہو گی حالانکہ قرآن کریم کی بعض دوسری آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ خدارحیم ہے اور انسانی اعمال سے بہت زیادہ جزاء دیتا ہے۔پس بظاہر یہ بات ان آیات کے خلاف نظر آتی ہے کہ ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ ہم مومنوں کو ان کے کام سے زیادہ جزاء دیں گے اور دوسری جگہ یہ فرما دیا کہ حساب کے مطابق جزاء ہو گی۔اس کے متعلق یا درکھنا چاہیئے کہ حساب کے معنے حساب کے مطابق کے علاوہ اور بھی ہوتے ہیں چنانچہ حساب کے ایک معنے گننے کے بھی ہوتے ہیں اور کافی کے بھی ہوتے ہیں لے یعنی ایسی چیز جس سے ضرورت پوری ہو جائے۔پس عَطَاء حِسَابًا (النبأ : ۳۷) کا یہ مطلب ہوا کہ ایسی عطا جس سے انسان کی ہر ضرورت پوری ہو جائے۔چنانچہ ابن کثیر لکھتے ہیں كَافِيًا وَافِيًا سَالِمًا كثيراً که حسابا کے معنے یہ ہیں کہ جو کچھ ملے گاوہ کافی ہو گا بلکہ ضرورت سے زیادہ ہو گا اور سالم ہو گا یعنی کسی قسم کا نقص اُس میں نہیں ہو گا۔گرینیڈا اور وہ پھر بہت ہو گا۔گویا یہاں جسائیا کے معنے یہ ہوں گے کہ ایسی عطا جو پہلے ہی حساب میں آئی ہوئی تھی جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنی پیشگوئیوں میں ذکر کیا ہوا تھا اور جس کے متعلق مومن یہ امید رکھتا تھا۔میرے نزدیک عَطَاءَ حِسَابًا (النبأ: ۳۷) سے مراد وہی عطا ہے جو حساب میں آچکی تھی یعنی جس کا ذکر ہو چکا تھا۔“ (تفسیر کبیر جلد ۸ صفحہ ۵۸،۵۷) باب ۱ : يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا ( النبأ: ١٩) جس دن کہ صور میں پھونکا جائے گا پھر تم گروہ در گروہ (ہو کر ہمارے حضور میں ) آؤگے افواجا کے معنی ہیں ) گروہ در گروہ۔:٤٩٣٥: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۴۹۳۵ محمد بن سلام بیکندی) نے مجھ سے بیان زُمَرًا۔(اقرب الموارد - حسب)