صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 14
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۴ ۶۵ - کتاب التفسير / الزمر ایک عالم سے بر تر اور نہاں در نہاں اور تقدس اور تنزہ کا مقام ہے وہ کوئی ایسی جگہ نہیں کہ پتھر یا اینٹ یا کسی اور چیز سے بنائی گئی ہو اور خدا اُس پر بیٹھا ہوا ہے۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ جیسا کہ یہ فرماتا ہے کہ کبھی وہ مومن کے دل پر اپنی تجلی کرتا ہے۔ایسا ہی وہ فرماتا ہے کہ عرش پر اُس کی تجلی ہوتی ہے اور صاف طور پر فرماتا ہے کہ ہر ایک چیز کو میں نے اٹھایا ہوا ہے یہ کہیں نہیں کہا کہ کسی چیز نے مجھے بھی اُٹھایا ہوا ہے۔اور عرش جو ہر ایک عالم سے بر تر مقام ہے وہ اُس کی تنزیہی صفت کا مظہر ہے۔“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۷،۲۷۶) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ کی روشنی میں دیکھا جائے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عرش الہی کو تھامے کھڑے ہونے کا جو ذکر حدیث میں آیا ہے وہ بھی یقیناً مجاز اور استعارہ سے ہی تعلق رکھتا ہے۔اس تعلق سے مراد جسمانی و مادی تعلق نہیں بلکہ صفات تنزیہ کا ظہور ہے جو اول طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہو گا جیسا کہ حدیث کے الفاظ إِنِّي أَولُ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ سے ظاہر ہے۔اور اس تجلی کے دوسرے مظہر حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔