صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 346
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۴۶ ۶۵ - كتاب التفسير / عم يتساءلون وَهَاجًا: وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَها جان (النبأ: ۱۴) اور ہم نے ایک چمکتا ہوا سورج (بھی) بنایا ہے۔ وھج کے ایک معنی آگ سے گرمی اور روشنی حاصل کرنے کے بھی ہیں۔ (المفردات فی غریب القرآن، كتاب الواو، وهج) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عالمگیر تعلیم کی طرف بھی اس میں اشارہ ہے اور اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ جس طرح سورج کا نور ساری دنیا پر پھیل جاتا ہے اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم ایک دن ساری دنیا میں پھیل جائے گی۔ تم ملے کا رونا رو رہے ہو اور کہہ رہے ہو کہ مکہ میں اسلام پھیل گیا دس میں پچاس برس کے بعد ایک دن آئے گا جب تم دیکھو گے کہ یہ سراج وهاج بن جائے گا اور اس کی روشنی ساری دنیا پر چھا جائے گی۔ دور تک گرمی اور روشنی کے پھیلنے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ افادہ زمانہ کے لحاظ سے بھی بہت ممتد ہے اور جس طرح یہ دنیوی سورج قیامت تک مادی دنیا کی ضرورتوں کو پورا کر تا رہے گا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا افاضہ روحانی بھی دنیا کے اختتام تک چلتا چلا جائے گا۔“ ( تفسير كبير، سورۃ النباء زیر آیت وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَاجًا، جلد ۸ صفحه (۲۳) غَسَاقًا : فرمايا إِلَّا حَمِيمًا وَ غَشَاقًا (النبأ: ۲۲) ہاں مگر اللہ ان کو (تیز) گرم پانی اور (ناقابل برداشت) ٹھنڈا پانی دے گا۔ لغت میں لکھا ہے۔ الغَسَّاقُ الْبَارِدُ وَالْمُنْتِنُ ، وَمَا يَقْطُرُ مِنْ جُلُودِ أَهْلِ النَّارِ وَصَدِيدُهُمْ مِنْ قَيْحِ وَنَحوه (اقرب الموارد- غسق) عشاق کے معنی ہوتے ہیں سخت سرد اور بد بودار پانی اور جو جہنمیوں کی جلدوں سے ٹپکے گا اور ان کی پیپ وغیرہ جو زخموں سے بہتی ہے۔ کیونکہ عشاق کے معنے ہیں سخت سرد۔ پس یہ کہنا کہ انہیں وہاں سردی نہیں لگے گی بالبداہت باطل ہو گیا کیونکہ عشاق کے معنی ہی سخت سرد کے ہیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دوزخیوں کو جو پانی ملے گا وہ سخت گرم ہو گا۔ اسی طرح انہیں زخموں کا دھوون یا اسکی پیپ دی جائے گی یا سخت بد بودار اور سڑا ہوا پانی ملے گا یا اتنا ٹھنڈا پانی دیا جائے گا جس سے ان کے دانت گرنے لگیں گے۔“ ( تفسير كبير ، سورۃ النباء زیر آیت الأَحَمِيمًا وَ غَشَاقًا جلد ۸ صفحه ۴۰) عَطَاءٌ حِسَابًا: فرماتا ہے : جَزَاء مِنْ رَبِّكَ عَطَاءٌ حِسَابًا ( النبأ: (۳۷) یعنی انہیں تیرے رب کی طرف سے ایسا بدلہ دیا جائے گا جو مناسب حال انعام ہو گا۔