صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 345
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۴۵ ۶۵ - کتاب التفسير / عم يتساءلون اور آخرت کے لحاظ سے یہ دونوں معنے چسپاں ہو سکتے ہیں یعنی لَا يَرْجُونَ حِسَابًا (النبأ: ۲۸) وہ خوف نہیں کرتے تھے کہ ہمارے اعمال کی سزا ہم کو ملے گی یاوہ امید نہیں کرتے تھے کہ اگر ہم نیک اعمال کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کا کوئی بدلہ ملے گا۔اس لیے رجاء کا لفظ یہاں استعمال کیا گیا ہے قرآن کریم کی خوبی ہے کہ وہ ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جو ایک ہی وقت میں کئی کئی معنوں میں مستعمل ہو جاتے ہیں۔یہاں بھی رجاء کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو دو معنوں کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی اُمید اور خوف۔در حقیقت انسانی اعمال میں دو وجوہ سے ہی خرابی پیدا ہوتی ہے یا تو اس وجہ سے خرابی پیدا ہوتی ہے کہ بد اعمال کی سزا کا اُسے کوئی ڈر نہیں ہوتا اور یا اس وجہ سے خرابی پیدا ہوتی ہے کہ نیک اعمال کی جزاء کا اُسے کوئی یقین نہیں ہوتا۔اِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ حِسَابًا میں یہ دونوں باتیں بیان کر دی گئی ہیں۔“ (تفسیر کبیر، سورۃ النباء، زیر آیت إِنَّهُمْ كَانُوالَا يَرْجُونَ حِسَابًا جلد ۸ صفحه ۴۱) لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خطابًا: وہ اس کے حضور میں (بلا اجازت) بات کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) اس سے مراد یہ ہے کہ وہ یہ طاقت نہیں رکھتے کہ اللہ تعالیٰ سے ثواب یا عذاب کی کمی بیشی کی بات کر سکیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۷۵) صوابا : اس کے معنی ہیں اللائق یعنی مناسب، الحقی یعنی پکی بات، في الخطا درست بات کے فرماتا ہے: يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَئِكَةُ صَفَا لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا (النبأ: ٣٩) یعنی جس دن روح القدس اور فرشتے صف بصف کھڑے ہوں گے ، وہ کلام نہیں کریں گے سوائے اُس کے جسے رحمن اجازت دے گا اور وہ درست بات کہے گا۔(ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ) امام بخاری نے صواب کے معنی مجاہد سے یہ نقل کیے ہیں کہ دنیا میں سچی بات کہی تھی اور اس پر عمل کیا تھا۔اس میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے ربا اللہ کہا اور اس پر استقامت اختیار کر کے اپنے عمل سے اپنے قول کی تصدیق کی۔نیز اس سے مراد یہ ہے کہ آخرت میں تمام لوگ جن میں انبیاء اور صلحاء سب شامل ہیں خدا کے حضور صف بستہ کھڑے ہوں گے اور کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی سوائے اس کے جسے رحمان خدا اجازت دے گا اور وہ جو بات کہے گا ٹھیک ٹھیک کہے گا۔جس وجود کو یہاں اجازت ملنے کا ذکر ہے وہ ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ خدا کے حضور پختہ اور سچی بات کریں گے۔اسے قرآنِ کریم اور احادیث میں شفاعت کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے۔(اقرب الموارد صوب)