صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 344
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۴۴ ۶۵ - کتاب التفسير / عم يتساءلون ۷۸ سُورَةُ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ قَالَ مُجَاهِدٌ: لَا يَرْجُونَ حِسَابًا مجاہد نے کہا: لَا يَرْجُونَ حِسَابًا سے مراد ہے کہ وہ (النبأ: ٢٨) لَا يَخَافُونَهُ لَا يَمْلِكُونَ اس (حساب) سے ڈرتے نہیں۔لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ مِنْهُ خطابا النبأ: ۳۸) لَا يُكَلِّمُونَهُ إِلَّا خِطَابا کے معنی ہیں کہ اس سے بات نہیں کر سکیں گے أَنْ يَأْذَنَ لَهُمْ صَوَابًا (النبأ: ٣٩) حَقًّا سوائے اس کے کہ وہ ان کو بات کرنے کی اجازت دے۔صوابا کے معنی ہیں کہ دنیا میں سچی بات کہی فِي الدُّنْيَا وَعَمِلَ بِهِ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تھی اور اس پر عمل کیا تھا اور حضرت ابن عباس وَهَاجًا ( النبأ: ١٤) مُضِيئًا۔وَقَالَ غَيْرُهُ عشاقا (النبأ: ٢٦) غَسَقَتْ عَيْنُهُ، وَيَغْسِقُ الْجُرْحُ يَسِيلُ كَأَنَّ الْغَسَّاقَ نے کہا: وَھا جا کے معنی ہیں چمکتا ہوا اور ان کے سوا اوروں نے کہا: غساقا کے معنی ہیں اس کی آنکھ سے آنسو بہے (اور اس کے سامنے تاریکی ہوئی ) وَالْغَسِيقَ وَاحِدٌ۔عَطَاءَ حِسَابًا (النبأ: ٣٧) يَغْسِقُ الجرح کے معنی ہیں زخم پیپ سے بہہ رہا جَزَاءً كَافِيًا، أَعْطَانِي مَا أَحْسَبَنِي ہے۔غشائی اور تیسیقی کے ایک ہی معنی ہیں أَيْ كَفَانِي۔(یعنی پیپ) عَطَاءَ حِسَابًا کے معنی ہیں پورا پورا بدلہ عرب کہتے ہیں) أَعْطَانِي مَا أَحْسَبَنِي اس نے مجھے اتنا دیا کہ میرے لیے کافی ہو گیا۔شريح : سُورَةُ عَم يتساءلون: حضرت خلیفہ الیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” اس سورت کے آخر پر ایک بہت بڑا انتباہ فرمایا گیا ہے کہ اگر انسان نے اسی طرح غافلانہ حالت میں زندگی گزار دی تو انجام کار وہ بڑے درد سے اس حسرت کا اظہار کرے گا کہ کاش میں اس سے پہلے ہی مٹی ہو جاتا اور مٹی سے انسان کی صورت میں اٹھایا نہ جاتا۔“ ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورۃ النبا صفحہ ۱۱۱۷) لا يَرْجُونَ حِسَابًا : وہ یقینا کسی ) محاسبہ کاڈر (اپنے دلوں میں) نہیں رکھتے تھے۔(ترجمہ تفسیر صغیر ) علامہ عینی لکھتے ہیں کہ رجاء کا لفظ اُمید اور خوف دونوں کے لیے مستعمل ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۱۹ صفحہ ۲۷۵) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ رجاء کے ان معنوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: يَرْجُون کے معنے خوف کرنے کے بھی ہوتے ہیں اور امید رکھنے کے بھی۔