صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 342
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۴۲ ۶۵ - كتاب التفسير والمرسلات بَاب : كَانَه جملت صفر (المرسلات: ٣٤) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) گویا کہ وہ ایسے ہیں جیسے زردرنگ کے موٹے رسے ٤٩٣٣: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ ۴۹۳۳: عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ یحیٰ حَدَّثَنَا يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا کہ سفیان ثوری) عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ سَمِعْتُ ابْنَ نے ہمیں خبر دی۔(انہوں نے کہا: ) عبد الرحمن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَرَى بِشَرَرٍ بن عابس نے مجھ سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا:) كَالقَصْرِه (المرسلات: ۳۳) كُنَّا نَعْمدُ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ترمی إِلَى الْخَشَبَةِ ثَلَاثَةَ أَذْرُعٍ وَفَوْقَ ذَلِكَ بِشَرَرِ كَالقَصْرِ کے متعلق یہ سنا کہ ہم تین تین فَتَرْفَعُهُ لِلشَّتَاءِ فَنُسَمِّيهِ الْقَصَرَ كَأَنَّهُ ہاتھ کی یا اس سے بڑی لکڑیاں لیتے اور اسے اٹھا کر جاڑے کے لئے رکھ چھوڑتے اور انہی کو قصر جمَالَاتٌ صُفْرٌ حِبَالَ السُّفْنِ تُجْمَعُ کہتے۔گانہ حالات صفر کے معنی ہیں جہازوں حَتَّى تَكُونَ كَأَوْسَاطِ الرِّجَالِ۔کی رسیاں جو اکٹھی کر کے بٹی جاتیں، یہاں تک طرفه: ٤٩٣٢۔تشریح: کہ وہ آدمیوں کی کمر کے برابر موٹی ہوتیں۔گانہ جملت صُفْر : گویا کہ وہ ایسے ہیں جیسے زردرنگ کے موٹے رہے۔علامہ عینی لکھتے نہیں امام بخاری نے جمالات کی تفسیر حبال یعنی رسیوں سے کی ہے۔یہ وہ موٹی رسیاں ہیں جن کے ساتھ بڑی بڑی کشتیوں یا جہازوں کو باندھا جاتا ہے۔مجاہد کہتے ہیں: آیت حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَةِ الْخِيَاطِ (الأعراف: ۴۱) میں الجمل سے مراد وہ موٹا رہتا ہے جس سے کشتیوں کو باندھا جاتا ہے۔حضرت ابنِ عباس اور سعید بن جبیر نے بھی جمالات صفر کا معنی جہازوں کی رسیاں جو بٹی ہوئی ہوتی ہیں بیان کیا ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۱۹ صفحہ ۲۷۲) علامہ زمخشری نے لکھا ہے کہ وَفي التَّشْبِيْهِ بِالْجَمَالَاتِ وَهِيَ الْقُلُوسِ، تَشْبِيْهُ مِنْ ثَلَاثَ جِهَاتِ، مِنْ جهَةِ الْعَظَمِ وَالطُّولِ وَالصُّفْرَة - (الكشاف، سورة المرسلات، آیت گانه جملت صفر ، جزء ۴ صفحه ۶۸۱ یعنی الحمالات جو کہ جہازوں کے باندھنے والے رتے ہیں۔یہ تشبیہ تین وجوہ سے ہے یعنی اس کی عظمت، اس کی لمبائی اور اس کے زرد رنگ ہونے کی وجہ سے۔