صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 341
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۴۱ ۶۵ - کتاب التفسير / والمرسلات وقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ۔ تھے : ہم اس پر جلدی سے لپکے مگر وہ ہم سے نکل گیا۔ کہتے تھے : آپ نے فرمایا: وہ تمہارے شر سے بچایا گیا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچائے گئے۔ أطرافه ۱۸۳۰، ۳۳۱۷، ٤۹۳۰، ٤٩٣١، ٤٩٣٤۔ بَاب ۲ : قَوْلُهُ إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ (المرسلات: ۳۳) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: بلکہ وہ اتنے اونچے شعلے پھینکتا ہے جو قلعے کے برابر ہوتے ہیں ٤٩٣٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۴۹۳۲ : محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ نے ہمیں خبر دی کہ عبدالرحمن بن عابس نے ہمیں بْنُ عَابِسٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس کو يَقُولُ إِنَّهَا تَرْنِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ إِنَّهَا تَرْمِی بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ کے متعلق کہتے ہوئے (المرسلات: ۳۳) قَالَ كُنَّا نَرْفَعُ سنا۔ کہا: ہم جلانے کے لئے تین تین ہاتھ یا اس الْخَشَبَ بِقَصَرٍ ثَلَاثَةَ أَذْرُعٍ أَوْ أَقَلَّ سے کچھ کم لکڑیاں اٹھا کر جاڑے کے لئے رکھ چھوڑا کرتے تھے۔ اور ان کو قصر کہتے تھے۔ فَنَرْفَعُهُ لِلشَّتَاءِ فَنُسَمِّيهِ الْقَصَرَ۔ طرفه: ٤٩٣٣- تشریح : إِنَّهَا تَرى بِشَرَرِ كَالْقَصْرِ : بلکہ وہ اتنے اونچے شعلے پھیلتا ہے جو قلعے کے برابر ہوتے ہیں۔ ( ترجمه تفسیر صغیر) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جن آئندہ جنگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ تین شعبوں والی ہوں گی یعنی بری بھی، بحری بھی اور فضائی بھی۔ اور آسمان سے ایسے شعلے برسیں گے جو قلعوں سے مشابہ ہوں گے گویا وہ جو گیا رنگ کے اُونٹ ہیں۔ ان دونوں آیات نے قطعی طور پر ثابت کر دیا کہ یہ باتیں تمثیلی رنگ میں ہو رہی ہیں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کسی ایسی جنگ کا تصور موجود نہیں تھا جس میں آسمان سے شعلے برسیں۔ اس لئے لازما یہ اس علیم و خبیر ہستی کی طرف سے ایک پیشگوئی ہے جو مستقبل کے حالات بھی جانتا ہے۔“ 66 (ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورۃ المرسلات صفحه ۱۱۱۱)