صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 339
صحیح البخاری جلد ۱۲ اركَعُوا کے معنی ہیں نماز ۳۳۹ ۶۵ - كتاب التفسير / والمرسلات انماز پڑھو۔ لَا ير كعون وہ نماز نہیں پڑھتے ۔ امام بخاری نے اس ھتے ۔ امام بخاری نے اس تعلیق سے آیت وَ إِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ ( المرسلات: کی ۴۹) طرف اشارہ کیا ہے۔ یعنی اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ نماز پڑھو تو وہ نماز نہیں پڑھتے ۔ ھتے۔ علامہ عینی لکھتے ہیں اس آیت میں رکوع کا اطلاق نماز پر کیا گیا ہے کیونکہ رکوع نماز کا جزو ہے اور بسا اوقات جزء سے گل مراد لی جاتی ہے۔ (عمدۃ القاری، جزء ۱۹ صفحہ ۲۷۲) باب ۱ ٤٩٣٠ : حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا ۴۹۳۰: محمود ( بن غیلان ) نے ہم سے بیان کیا کہ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عبید اللہ بن موسیٰ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ اسرائیل سے، اسرائیل نے منصور سے، منصور رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ نے ابراہیم (مخفی) اسے، ابراہیم ابراہیم نے علقمہ (بن قیس) سے ، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم وَالْمُرْسَلَاتِ وَإِنَّا لَنَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ فَابْتَدَرْنَاهَا فَسَبَقَتْنَا آپ پر سورہ مرسلات نازل کی گئی۔ اور ہم اس فَدَخَلَتْ جُحْرَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ کو آپ کے منہ سے سن کر سیکھ رہے تھے۔ اتنے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُقِيَتْ شَرَّكُمْ میں ایک سانپ نکلا، ہم اس پر جلدی سے لیکے كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ۔ لیکن وہ ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی اپنے سوراخ میں گھس گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے شہر سے وہ بچ گیا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچائے گئے۔ أطرافه: ۱۸۳۰، ۳۳۱۷، ٤٩٣١، ٤٩٣٤۔ ٤٩٣١ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۴۹۳۱: عبده بن عبد اللہ (خزاعی) نے ہم سے أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ إِسْرَائِيلَ بیان کیا کہ ہمیں یحی بن آدم نے خبر دی۔ انہوں عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا، وَعَنْ إِسْرَائِيلَ عَنِ نے اسرائیل سے، اسرائیل نے منصور سے روایت الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ کرتے ہوئے یہی حدیث بتائی۔ اور (ایسا ہی) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ، وَتَابَعَهُ أَسْوَدُ بْنُ اسرائیل نے اس حدیث کو ) اعمش سے ، اعمش