صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 338
صحیح البخاری جلد ۱۲ ٣٣٨ ۶۵ - كتاب التفسير والمرسلات ۷۷ سُورَةُ وَالْمُرْسَلَاتِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ جِمَالَاتٌ حِبَالٌ ارْكَعُوا اور مجاہد نے کہا: جمالات یعنی (جہاز کی) موٹی (المرسلات: ٤٩) صَلُّوا لَا يَرْكَعُونَ رسیاں۔اركَعُوا کے معنی ہیں نماز پڑھو۔لَا يَرْكَعُونَ (المرسلات: ٤٩) لَا يُصَلُّونَ وَسُئِلَ ابْنُ وہ نماز نہیں پڑھتے۔اور حضرت ابن عباس سے عَبَّاسِ لَا يَنْطِقُونَ (المرسلات: ٣٦) پوچھا گیا کہ (ایک جگہ فرمایا: لا يَنْطِقُونَ یعنی) واللهِ رَبَّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ (الانعام : ٢٤) وہ بات نہیں کریں گے۔(اور دوسری جگہ فرمایا: وَاللهِ رَبّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ یعنی اللہ کی قسم وَ الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ (يس: ٦٦) اے ہمارے رب! ہم تو مشرک نہ تھے۔پھر فَقَالَ إِنَّهُ ذُو أَلْوَانٍ مَرَّةً يَنْطِقُونَ (فرمایا: الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ یعنی) آج وَمَرَّةً يُحْتَمُ عَلَيْهِمْ۔ہم اُن کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے۔تو انہوں نے کہا: بات یہ ہے کہ انسان کے مختلف حالات ہوں گے۔کبھی وہ بات کریں گے اور کبھی اُن کے منہ پر مہر لگادی جائے گی۔تشریح : سُورَةُ وَالْمُرْسَلَاتِ: حضرت خلیفة المسح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سورت کے آغاز ہی میں پھر مستقبل کے وہ واقعات جو دور آخرین سے تعلق رکھتے ہیں بیان فرمائے گئے ہیں اور اس زمانہ کی سائنسی ترقی کے ذکر کو گواہ ٹھہرایا گیا ہے کہ جس اللہ نے ان غیبی امور کی خبر دی ہے وہ ہر قسم کے انقلاب برپا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔چنانچہ کچھ ایسے اڑنے والوں کا ذکر ہے جو آغاز میں آہستہ آہستہ اُڑتے ہیں اور پھر تیز آندھیوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔فی زمانہ تیز ترین جہازوں کا بھی یہی حال ہے کہ آہستہ آہستہ روانہ ہوتے ہیں اور پھر ان کی رفتار میں بے حد سرعت پیدا ہو جاتی ہے اور ان جہازوں کے ذریعہ دشمن سے لڑائی کے دوران کثرت سے اشتہار پھینکے جاتے ہیں اور یہ فرق ظاہر کیا جاتا ہے کہ اگر تم ہمارے ساتھ ہو تو ہم تمہارے مددگار ہوں گے ورنہ ہماری پکڑ سے تمہیں کوئی بچا نہیں سکے گا۔“ ( ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورۃ المرسلات صفحہ ۱۱۱۱)