صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 337 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 337

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۳۷ ۶۵ - کتاب التفسير / هل أتى على الإنسان قمطریر کے معنی ہیں سخت فرماتا ہے : إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبَّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَنطَرِيرًا (الدھر: 11) لے کہتے ہیں: يَوْمُ قَنطَرِیر اور يَوْم تُمَاطِر یعنی سخت مصیبت کا دن عبوس، قطریر ، قماطير اور عصیب مصیبت کے وہ دن ہیں جو سخت سے سخت ہو سکتے ہیں۔ یہ ابو عبیدہ کا قول ہے۔ فراء نے کہا: قمطریر کے معنی ہیں شدید۔ حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۸۷۳) إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبَّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَنطَرِيرًا ۔ کہ ہم اپنے رب سے ایک دن سے جو عبوس اور تمطریر ہے ڈرتے ہیں۔ عبوس تنگی کو کہتے ہیں، تمطر پر دراز۔ یعنی قیامت کا دن تنگی کا ہو گا اور لمبا ہو گا۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۲۹۰) نیز فرمایا: يَوْمًا عَبُوسًا قَنطَرِيرًا: عبوس الوجہ اس آدمی کو کہتے ہیں جس کی پیشانی پر ہمیشہ بل پڑے ہوئے ہوں۔ قمطریر سخت سلوٹیں اور بل چہرے کے۔ عذاب الہی کی شدت کو دیکھ کر چہروں کی ایسی حالت ہو گی کہ جیسے سخت گریہ وزاری کے وقت رونے والے چہرے کی کیفیت عین حالت گریہ کے وقت ہوتی ہے۔“ حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۲۹۱) ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : ”یقینا ہم اپنے رب کی طرف سے (آنے والے) ایک تیوری چڑھائے ہوئے نہایت سخت دن کا خوف رکھتے ہیں۔“