صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 13 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 13

صحیح البخاری جلد ۱۲ السم ۶۵ - كتاب التفسير / الزمر تشريح : وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمواتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ : اللہ تعالی اپنی مخلوقات کو ایک صورت سے منتقل کر کے جب دوسری صورت میں لاتا ہے تو لاتا ہے تو یہ تغیر نفخ صور کہلاتا ہے۔ قرآن کریم میں یہ الفاظ آخرت کے تعلق میں بھی بیان ہوئے ہیں اور دنیا میں ہونے والے عظیم الشان واقعات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے بھی آئے ہیں۔ معنونہ آیت کے ذکر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ہے: نفخ حقیقت میں دو قسم پر ہے ایک نفخ اضلال اور ایک نفخ ہدایت جیسا کہ اس آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامُ تَنْظُرُونَ ) (الزمر: کے :۶۹) یہ یہ آیتیں ذو الوجوہ ہیں قیامت سے بھی تعلق رکھتی ہیں اور اس عالم سے بھی۔ جیسا کہ آیت اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ( الحديد : ۱۸) اور جیسا کہ آیت فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا (الرعد: ۱۸) سے اور اس عالم کے لحاظ سے ان آیتوں کے یہ معنی ہیں کہ آخری دنوں میں دو زمانے آئیں گے۔ ایک ضلالت کا زمانہ اور اس زمانہ میں ہر ایک زمینی اور آسمانی یعنی شقی اور سعید پر غفلت سی طاری ہو گی مگر جس کو خدا محفوظ رکھے اور پھر دوسرا زمانہ ہدایت کا آئے گا۔ پس ناگاہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھتے ہوں گے۔ یعنی غفلت دور ہو جائے گی اور دلوں میں معرفت داخل ہو جائے گی اور شقی اپنی شقاوت پر متنبہ ہو جائیں گے لے گو ایمان نہ لادیں۔“ (شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۱) فَإِذَا أَنَا مُوسَى مُتَعَلِّقُ بِالْعَرْشِ: حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عرشِ الہی کو تھامے کھڑا ہونے سے کیا مراد ہے، اسے سمجھنے کے لیے عرش کی حقیقت کو جاننا ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں: ”عرش سے مراد قرآن شریف میں وہ مقام ہے جو تشبیہی مرتبہ سے بالا تر اور ہر ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور صور میں پھونکا جائے گا تو غش کھا کر گر پڑے گا جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سوائے اُس کے جسے اللہ چاہے پھر اس میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے۔“ ☑ ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع الرابع: جان لو کہ لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد ضرور زندہ کے بعد ضرور زندہ کرتا ہے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : تو وادیاں اپنے ظرف کے مطابق بہہ پڑیں۔“