صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 336
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۳۶ ۶۵ - كتاب التفسير / هل أتى على الإنسان اور طوق گردن اور ایک افروختہ آگ کی سوزش۔اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ سچے دل سے خدا تعالیٰ کو نہیں ڈھونڈتے ان پر خدا کی طرف سے رجعت پڑتی ہے وہ دنیا کی گرفتاریوں میں ایسے مبتلا رہتے ہیں کہ گویا پابز نجیر ہیں۔اور زمینی کاموں میں ایسے نگو نسار ہوتے ہیں کہ گویا ان کی گردن میں ایک طوق ہے جو اُن کو آسمان کی طرف سر نہیں اٹھانے دیتا اور ان کے دلوں میں حرص و ہوا کی ایک سوزش لگی ہوئی ہوتی ہے کہ یہ مال حاصل ہو جائے اور یہ جائیداد مل جائے اور فلاں ملک ہمارے قبضہ میں آجائے اور فلاں دشمن پر ہم فتح پا جائیں۔اس قدر روپیہ ہو، اتنی دولت ہو۔سوچونکہ خدائے تعالیٰ ان کو نالائق دیکھتا ہے اور بُرے کاموں میں مشغول پاتا ہے اس لئے یہ تینوں بلائیں ان کو لگا دیتا ہے۔اور اس جگہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب انسان سے کوئی فعل صادر ہوتا ہے تو اسی کے مطابق خدا بھی اپنی طرف سے ایک فعل صادر کرتا ہے۔مثلاً انسان جس وقت اپنی کوٹھڑی کے تمام دروازوں کو بند کر دے تو انسان کے اس فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل ہو گا کہ وہ اس کو ٹھڑی میں اندھیرا پیدا کر دے گا۔کیونکہ جو امور خد اتعالیٰ کے قانون قدرت میں ہمارے کاموں کے لئے بطور ایک نتیجہ لازمی کے مقدر ہو چکے ہیں وہ سب خد اتعالیٰ کے فعل ہیں۔وجہ یہ کہ وہی علت العلل ہے ہے۔نیز فرمایا: اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۸۹٬۳۸۸) ” ہم نے کافروں کے لئے جو ہماری محبت دل میں نہیں رکھتے اور دنیا کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔زنجیر اور طوق گردن اور دل کے جلنے کے سامان تیار کر رکھے ہیں اور دنیا کی محبت کی اُن کے پیروں میں زنجیریں ہیں اور گردنوں میں ترک خدا کا ایک طوق ہے جس سے سر اُٹھا کر اوپر کو نہیں دیکھ سکتے اور دنیا کی طرف جھکے جاتے ہیں۔اور دنیا کی خواہشوں کی ہر وقت ان کے دلوں میں ایک جلن ہے۔“۔لیکچر لاہور ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵۸)