صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 335 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 335

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۳۵ ۶۵ - کتاب التفسير / هل أتى على الإنسان فرمائے اور اس کی سمع اور بصر کا حساب لیا جائے۔“ (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورۃ الدھر صفحہ ۱۱۰۶) هَلْ آلى عَلَى الْإِنْسَانِ : فرماتا ہے : هَلْ آلَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُوران ( الدهر :٢) یعنی کیا انسان پر وہ گھڑی نہیں آئی جب وہ بالکل بے حقیقت تھا اور اُس کے کاموں کو کوئی یاد نہیں کرتا تھا۔( ترجمه تفسیر صغیر) هل انکار کے لئے بھی ہوتا ہے اور خبر کے لئے بھی۔اور یہ هَل خبر یہ ہے۔فرماتا ہے: كَانَ شَيْئًا فَلَمْ يَكُن مَّن كُورًا۔یعنی انسان کچھ تھا مگر قابل ذکر نہ تھا۔اور یہ زمانہ اس وقت سے ہے کہ جب اللہ نے اس کو مٹی سے پیدا کیا اس وقت تک کہ اس میں روح پھونکی گئی۔اس آیت کریمہ میں تخلیق کے ان مراحل کا ذکر ہے جن میں ابھی انسانی تشخص قائم نہیں ہوا تھا اور انسان ایسے ارتقائی دور سے گزر رہا تھا کہ اس نے انسانیت کی خلعت ابھی نہیں پہنی تھی اور اس حالت کو انسانی وجود کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا تھا۔قرآن کریم نے کروڑوں سال سے زائد عرصہ پر پھیلے ہوئے ارتقائی زمانے کو سمجھنے کے لئے موجودہ انسانی تخلیق کی مثال دی ہے جب وہ نطفہ سے مختلف مراحل میں گذرتا ہوا انسانی شکل اختیار کرتا ہے۔مگران ارتقائی مراحل میں اسے انسان کے نام سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا تا وقتیکہ وہ انسانی شکل اختیار کرلے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: هل الى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُوران (الدھر:۲) کیا انسان پر یعنی تجھ پر وہ وقت نہیں گزرا کہ تیر ادنیا میں کچھ بھی ذکر و تذکرہ نہ تھا۔یعنی تجھ کو کوئی نہیں جانتا تھا کہ تو کون ہے اور کیا چیز ہے اور کسی شمار و حساب میں نہ تھا۔یعنی کچھ بھی نہ تھا۔یہ گزشتہ تلطفات و احسانات کا حوالہ ہے تا محسن حقیقی کے آئندہ فضلوں کے لئے ایک نمونہ ٹھہرے۔“ ( براہین احمدیہ حصہ چہارم ، روحانی خزائن جلد اول حاشیه صفحه ۵۸۲) سَلاسِلًا وَأَغْلَالًا بھی پڑھا گیا ہے (بجائے سلاسل وأغلالا کے) اور بعضوں نے (سلاسل پر) تنوین نہیں پڑھی۔فرماتا ہے: اِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ سَلْسِلَا وَ أَهْلاً وَسَعِيرًا (الدھر:۵) یقینا ہم نے کافروں کے لئے طرح طرح کی زنجیریں اور طوق اور ایک بھڑکتی ہوئی آگ تیار کئے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع) ہم نے منکروں کے لئے جو سچائی کو قبول کرنا نہیں چاہتے زنجیریں تیار کر دی ہیں