صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 334
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۳۴ ۲۵ - کتاب التفسير / هل أتى على الإنسان وَقَالَ الْحَسَنُ النَّضْرَةُ فِي الْوَجْهِ اور حسن بصری) نے کہا: نظر کے معنی ترو تازگی وَالسُّرُورُ فِي الْقَلْبِ۔وَقَالَ ابْنُ کے ہیں جو چہروں میں ہو۔اور سُرور اس خوشی کو عَبَّاسِ الْآرَآيك (الدھر: ١٤) السُّرُرُ کہتے ہیں جو دل میں ہو۔اور حضرت ابن عباس وَقَالَ مُقَاتِل السُّرُرُ الحِجَالُ مِنَ الدُّرِ نے کہا: الآر آیت کے معنی ہیں تخت۔اور مقاتل نے کہا: الشرر سے مراد موتی اور یاقوت سے وَالْيَاقُوتِ۔آراستہ چھپر کھٹ ہیں۔وَقَالَ الْبَرَاءُ وَذُلِلَتْ قُطُوفُهَا (الدھر: (١٥) اور حضرت براء نے کہا: وَذُلِلَتْ قُطُوفُهَا يَقْطِفُونَ كَيْفَ شَاءُوا۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ مراد ہے کہ (جنتی) جس طرح چاہیں گے (پھل) سَلْسَبِيلًا (الدهر : ١٩) حَدِيدَ الْجِرْيَةِ چنیں گے۔اور مجاہد نے کہا: سلسبیلا کے معنی وَقَالَ مَعْمَرٌ أَسْرَهُمْ (الدهر : (۲۹) شِدَّةُ ہیں تیز بہنے والا۔اور معمر نے کہا: اسرَھم کے الْخَلْقِ وَكُلُّ شَيْءٍ شَدَدْتَهُ مِنْ قَتَب معنی ہیں پختہ تخلیق۔اور ہر وہ چیز جس کو تم مضبوط وَغَبِيطٍ فَهُوَ مَأْسُورٌ۔باندھو، جیسے پالان اور کجاوہ، تو وہ مَأْسُور ہوگا یعنی مضبوط باندھا ہوا۔تشريح : سُورَةُ هَلْ أَتَى عَلَى الإِنسَانِ: حضرت خلیفة المسح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سورت میں انسان کو اس کے آغاز کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک ایسا بھی دور اس پر گزرا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا۔حالانکہ انسان جب سے وجود میں آیا ہے تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ قابل ذکر وہی تھا۔پس یہاں انسان کی ابتدائی حالتوں کا ذکر ہے کہ انسان ایسے ابتدائی، ارتقائی دور میں سے بھی گزرا ہے کہ جب وہ ہر گز کسی ذکر کے لائق نہیں تھا۔یہ وہ دور معلوم ہوتا ہے جب ابھی پرندوں کو بھی قوت گویائی عطا نہیں ہوئی تھی اور ایک کامل خاموشی نے زمین کو ڈھانپ رکھا تھا۔اس سے انسان کو پیدا کیا گیا اور پھر وہ سمیعاً بصیرا بنا دیا گیا۔سننے والا بھی اور دیکھنے والا بھی۔پس جس اللہ نے مٹی کو سننے اور دیکھنے کی توفیق بخشی وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ اسے دوبارہ پیدا