صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 333
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۳۳ ۲۵ - كتاب التفسير /هل أتى على الإنسان ٧٦- سُورَةُ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے يُقَالُ مَعْنَاهُ الَّى عَلَى الْإِنْسَانِ (الدهر : ٢) هَلْ آلى عَلَى الْإِنْسَانِ کے متعلق کہا جاتا ہے وَهَلْ تَكُونُ جَعْدًا وَتَكُونُ خَبَرًا کہ اس کا مطلب ہے آئی عَلَی الْإِنسَانِ یعنی انسان وَهَذَا مِنَ الْخَبَرِ يَقُولُ كَانَ شَيْئًا پر ایسا زمانہ ) آیا۔اور تھل انکار کے لئے بھی ہوتا فَلَمْ يَكُنْ مَّذْكُورًا وَذَلِكَ مِنْ حِينٍ ہے اور خبر کے لئے بھی۔اور یہ ھلی خبر یہ ہے۔خَلَقَهُ مِنْ طِينٍ إِلَى أَنْ يُنْفَخَ فِيهِ فرماتا ہے: انسان کچھ تھا مگر قابل ذکر نہ تھا۔اور الرُّوحُ أمشاج (الدهر : ٣) الأخلاط، یہ زمانہ اس وقت سے ہے کہ جب اللہ نے اس کو مَاءُ الْمَرْأَةِ وَمَاءُ الرَّجُلِ الدَّمُ وَالْعَلَقَةُ مٹی سے پیدا کیا اس وقت تک کہ اس میں روح پھونکی گئی۔آماج کے معنی ہیں بہت سی مختلف وَيُقَالُ إِذَا خُلِطَ مَشِيعٌ كَقَوْلِكَ خَلِيطٌ وَمَمْشُوجٌ مِثْلُ مَخْلُوطٍ وَيُقَالُ چیزوں کا مرکب، یعنی عورت کا پانی اور مرد کاپانی، خون اور لوتھڑا۔اور جب چیزیں آپس میں ملادی سَلَاسِلًا وَأَغْلَالًا وَلَمْ يُجْرِ بَعْضُهُمْ جائیں تو انہیں میسیج کہتے ہیں، جیسے تم کہتے ہو: مُسْتَطِيرًا (الدهر : ٨) مُمْتَدًّا الْبَلَاءُ۔خليط اور ممنشُومج ( بھی کہتے ہیں) جیسے مَخلُوطٍ۔وَالْقَمْطَرِيرُ الشَّدِيدُ يُقَالُ يَوْم اور سلاسلًا وَأَغْلَالًا بھی پڑھا گیا ہے (بجائے قَمْطَرِيرٌ وَيَوْمٌ قُمَاطِرْ وَالْعَبُوسُ سَلَاسِلَ وَأَغْلَالًا کے) اور بعضوں نے وَالْقَمْطَرِيرُ وَالْقَمَاطِرُ وَالْعَصِيبُ أَشَدُّ سَلاسل پر) تنوین نہیں پڑھی۔مُسْتَطِيرا کے مَا يَكُونُ مِنَ الْأَيَّامِ فِي الْبَلَاءِ۔معنی ہیں لمبی پھیلی ہوئی مصیبت۔اور قنطریر کے معنی ہیں سخت۔کہتے ہیں: يَوْم قَنطَرِیر اور يَوْم قماطر یعنی سخت مصیبت کا دن۔اور عبوس، قنطَرِير ، قماطير اور عَصِیب مصیبت کے وہ دن ہیں جو سخت سے سخت ہو سکتے ہیں۔