صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 333
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۳۳ ۷۵ - کتاب التفسير / هل أتى على الإنسان ٧٦ سُورَةُ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے يُقَالُ مَعْنَاهُ إِلَى عَلَى الْإِنْسَانِ (الدهر : ٢) ( هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسانِ کے متعلق) کہا جاتا ہے وَهَلْ تَكُونُ جَحْدًا وَتَكُونُ خَبَرًا کہ اس کا مطلب ہے آئی عَلَی الْإِنْسَانِ یعنی انسان وَهَذَا مِنَ الْخَبَرِ يَقُولُ كَانَ شَيْئًا پر ایسا زمانہ ) آیا۔ اور قل انکار کے لئے بھی ہوتا فَلَمْ يَكُنْ مَّذْكُورًا وَذَلِكَ مِنْ حِينِ ہے اور خبر کے لئے بھی۔ اور یہ بھی خبر یہ ہے۔ خَلَقَهُ مِنْ طِينٍ إِلَى أَنْ يُنْفَخَ فِيهِ فرماتا ہے: انسان کچھ تھا مگر قابل ذکر نہ تھا۔ اور الرُّوحُ أمشاج (الدھر:(۳) الْأَخْلَاطُ، یہ زمانہ اس وقت سے ہے کہ جب اللہ نے اس کو مَاءُ الْمَرْأَةِ وَمَاءُ الرَّجُلِ الدَّمُ وَالْعَلَقَةُ مٹی سے پیدا کیا اس وقت تک کہ اس میں روح پھونکی گئی۔ امشاج کے معنی ہیں بہت سی مختلف وَيُقَالُ إِذَا خُلِطَ مَشِيجٌ كَقَوْلِكَ خَلِيطٌ وَمَمْشُوجٌ مِثْلُ مَخْلُوطٍ وَيُقَالُ چیزوں کا مرکب ، یعنی عورت کا پانی اور مرد کا پانی، خون اور لوتھڑا۔ اور جب چیزیں آپس میں ملادی سَلَاسِلًا وَأَغْلَالًا وَلَمْ يُجْرِ بَعْضُهُمْ جائیں تو انہیں مسیج کہتے ہیں، جسے تم کہتے ہو : مُسْتَطِيرًا ( الدهر : ۸) مُمْتَدًّا الْبَلَاءُ۔ خلیط اور منشوج ( بھی کہتے ہیں ) جیسے مخلوط۔ وَالْقَمْطَرِيرُ الشَّدِيدُ يُقَالُ يَوْمٌ اور سَلَاسِلًا وَأَغْلَالًا بھی پڑھا گیا ہے (بجائے قَمْطَرِيرٌ وَيَوْمٌ قُمَاطِرٌ وَالْعَبُوسُ سَلَاسِلَ وَأَغْلَالًا کے) اور بعضوں نے وَالْقَمْطَرِيرُ وَالْقَمَاطِرُ وَالْعَصِيبُ أَشَدُّ سَلَاسِل پر) تنوین نہیں پڑھی۔ مُسْتَطِيرا کے مَا يَكُونُ مِنَ الْأَيَّامِ فِي الْبَلَاءِ۔ معنی ہیں لمبی پھیلی ہوئی مصیبت۔ اور قطریر کے معنی ہیں سخت۔ کہتے ہیں: يَوْمٌ قَطَرِيرُ اور يَوْم مماطر یعنی سخت مصیبت کا دن۔ اور عبوس، قنطَرِير ، فما طیر اور عَصِیب مصیبت کے وہ دن ہیں جو سخت سے سخت ہو سکتے ہیں۔