صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 331 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 331

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۳۱ ۶۵ - کتاب التفسير / القيامة جَمْعَهُ وَ قُرْآنَهُ (القيامة : ۱۷ ، ۱۸ مت ہلاتا کہ اسے جلدی سے یاد کرلے۔ ہمارے قَالَ عَلَيْنَا أَنْ نَّجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ ذمہ ہی اس کا اکٹھا کرنا اور اس کی ترتیب دینا ہے۔ وَقُرْآنَهُ فَإِذَا قَرَأْنَهُ فَاتَّبِعُ قُرْآنَهُ (حضرت ابن عباس نے) کہا: اس سے یہ مراد ہے (القيامة: ١٩) فَإِذَا أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ کہ یہ ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس کو تمہارے سینہ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ (القيامة : ١٩) میں محفوظ کر دیں اور اس کو پڑھا دیں۔ فَإِذَا قَرَانَهُ عَلَيْنَا أَنْ تُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ قَالَ فَكَانَ فَاتَّبِع قرآن یعنی جب ہم اس کو نازل کریں تم خاموشی سے سنتے رہو۔ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَہ پھر إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ فَإِذَا ذَهَبَ ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس کو تیری زبان سے کھول قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللهُ، أَولَى لَكَ فَأَوْلَى کر بیان کریں۔ (حضرت ابن عباس) کہتے تھے: (القيامة : ٣٥) تَوَعُدٌ۔ أطرافه: ۵ ، ۱۹۲۷ ، ٤۹۲۸، ٥٠٤٤، ٧٥٢٤۔ پھر جب جبرائیل آپ کے پاس آتے تو آپ سر نیچے جھکا دیتے اور غور سے سنتے۔ جب وہ چلے جاتے تو آپ اس کو پڑھتے۔ جیسا کہ اللہ نے آپ سے وعدہ کیا۔ (اور آیت) اولی لک فاولی کے معنی ہیں تم پر ہلاکت ہو اور پھر ہلاکت ہو۔ یہ دھمکی ہے۔ تشريح : إِذَا نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ بِالْوَحْيِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ: رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم پر جب جبریل وحی لے کر نازل ہوتے تو آپ کو سخت تکلیف ہوتی۔ مذکورہ بالا روایت میں نزول وحی کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کی کیفیت کا جو ذکر ہے، حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ اس کے متعلق فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت نزول وحی کے وقت تبدیل ہو جایا کرتی تھی اور جسمانی علائق سے جو عارضی طور پر انقطاع واقع ہوتا اس سے آپ کو غیر معمولی تکلیف ہوتی۔ یہ بات بھی روحانی مشاہدات میں یقینی ہے کہ تجلی وحی کی ایک ایسی حالت بھی ہوتی ہے جس میں زبان بغیر کسی محرک کے خود بخود حرکت کرنی شروع کر دیتی ہے اور جو الفاظ اس پر جاری ہوتے ہیں وہ علم غیب پر مشتمل ہوتے ہیں۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب بدء الوحی، باب ۴ جلد اول صفحه ۱۷)