صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 330 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 330

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۳۰ -۲۵ کتاب التفسير / القيامة حضرت عمر کو قرآن کے حفاظ کے پتہ لینے کی ضرورت پیش آئی تو معلوم ہوا کہ اس وقت کی اسلامی افواج کے صرف ایک دستہ میں تین سو سے زائد حافظ قرآن تھے۔موجودہ زمانہ میں بھی جبکہ لوگوں میں دین کا شوق بہت کم ہو گیا ہے۔اسلامی دنیا میں حفاظ قرآن کی تعد ادیقیناً لا کھوں سے کم نہیں ہو گی۔“ (سیرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے صفحہ ۵۹۸ تا ۶۰۰ ) باب ۲ : فَإِذَا قَرَانَهُ فَاتَّبِعُ قُرانَةَ (القيامة : ١٩) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) پس جب ہم اسے پڑھ لیا کریں تو ہمارے پڑھنے کے بعد تو بھی پڑھ لیا کر قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ قرانه (القيامة : ۱۹) حضرت ابن عباس نے کہا: قرانہ سے یہ مراد بَيَّنَّاهُ۔فَاتَّبِعُ (القيامة : ۱۹) اعْمَلْ بِهِ ہے کہ ہم اس کو کھول کر بیان کر دیں۔فاتبغ سے یہ مراد ہے کہ تو اس پر عمل کر۔٤٩٢٩: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۴۹۲۹: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُّوسَى بْنِ أَبِي ( بن عبد الحمید) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے موسیٰ عَائِشَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ بن ابی عائشہ سے، موسیٰ نے سعید بن جبیر سے، عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ لَا تُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَكَ سعید نے حضرت ابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے اس لتَعجَلَ به (القيامة : ١٧) قَالَ كَانَ قول لَا تُحَرِّكَ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِہ کے متعلق روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب جبریل وحی لے کر نازل ہوتے نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ بِالْوَحْيِ وَكَانَ مِمَّا آپ کو سخت تکلیف ہوتی اور آپ اپنی زبان اور يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ اپنے ہونٹوں کو بھی ہلایا کرتے تھے اور آپ کی یہ وَكَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَأَنْزَلَ اللهُ الْآيَةَ الَّتِي حالت لوگوں کو معلوم ہو جاتی۔اس لئے اللہ نے یہ فِي لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيِّمَةِ (القيامة : ۲) آیت نازل کی جو سورہ لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيِّمَةِ میں لا تُحرك بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا ہے: لَا تُحرك۔یعنی تو اس کے ساتھ اپنی زبان کو رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا (كنز العمال، باب فی القرآن، فصل فی فضائل القرآن، جزء ۲ صفحه ۲۸۵