صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 329 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 329

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۲۹ -۶۵ کتاب التفسير القيامة ثبوت یہ ہے کہ آپ اور آپ کے صحابہ اپنی نمازوں میں قرآن شریف کی باقاعدہ تلاوت فرمایا کرتے تھے اور بعض اوقات نمازوں میں لمبی لمبی قرآتیں پڑھتے تھے۔چنانچہ ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے ایک ہی تہجد یعنی نصف شب کی نماز میں قرآن شریف کی پہلی پانچ سورتوں کی جو مجموعی طور پر قرآن کریم کے پنجم حصہ کے برابر بنتی ہیں اکٹھی اور بالترتیب قرآت فرمائی تھی۔اور یہی وہ لمبے قیام ہیں جن کی وجہ سے بسا اوقات آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے تھے۔سے اور بعض روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ آپ ہر سال ماہ رمضان میں جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن شریف کا دور فرمایا کرتے تھے اور آخری سال دو دفعہ مکمل دور فرمایا۔سے یہ سب باتیں اس بات کو یقینی طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ قرآن شریف کی ترتیب اور جمع کا حقیقی کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا۔پس زید بن ثابت کے جمع کرنے سے صرف یہ مراد ہے کہ انہوں نے حضرت ابو بکر خلیفہ اول کے حکم اور ان کی نگرانی کے ماتحت قرآن مجید کو ایک مصحف یعنی جلد یا کتاب کی صورت میں اکٹھا کر کے لکھا تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتب کردہ قرآن کی ایک مستند اور یکجائی کاپی ضبط میں آجاوے۔اور روایت سے پتہ لگتا ہے کہ پھر اسی مصحف سے بعد میں حضرت عثمان خلیفہ ثالث نے متعدد مصدقہ نقلیں تیار کرا کے انہیں اس وقت کی اسلامی دنیا کے مختلف علاقوں میں بھجوا دیا اور پھر انہی مصدقہ نقول سے آگے مزید اشاعت ہوتی گئی۔ہے علاوہ ازیں ہر زمانہ میں ہزاروں بلکہ لاکھوں حفاظ نے قرآن کریم کو اپنے سینوں میں لفظ بلفظ محفوظ کر کے اس کی حفاظت کا ایک مزید ظاہری سبب مہیا کیا۔اس بات کا اندازہ کرنے کے لیے کہ مسلمانوں کو قرآن شریف کے حفظ کرنے کا کس قدر شوق رہا ہے۔صرف یہ روایت کافی ہے کہ جب ایک دفعہ کسی غرض سے (سنن أبي ابو داود، کتاب الصلاة، باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِةِ) (صحيح البخاری، کتاب التهجد، باب قِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَ، روایت نمبر ۱۱۳۰) (صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن باب كان جبريل يعرض القرآن، روایت نمبر ۴۹۹۸) (صحيح البخاری، کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن)