صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 328
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۲۸ ۶۵ - کتاب التفسير / القيامة صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا جاتا تھا آپ اسے الہی تفہیم کے ماتحت ترتیب دے کر نہ صرف خود اسے یاد کرتے جاتے تھے بلکہ بہت سے دوسرے صحابہ کو بھی یاد کرا دیتے تھے۔اور جو صحابہ اس معاملہ میں زیادہ ماہر تھے ان کا آپ نے یہ فرض مقرر کیا تھا کہ وہ دوسروں کو سکھائیں اور مزید احتیاط کے طور پر آپ اسے ساتھ ساتھ لکھواتے بھی جاتے تھے۔چنانچہ حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ یہی زید بن ثابت جنہوں نے بعد میں قرآن شریف کو ایک جلد کی صورت میں اکٹھا کر کے لکھا اور جو ایک غیر معمولی طور پر ذہین آدمی تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآنی وحی کے قلمبند کرنے پر مامور تھے۔اور ان کے علاوہ بعض اور اصحاب بھی اس خدمت کو سر انجام دیتے تھے۔غرض قرآن مجید کے جمع و ترتیب کا حقیقی کام سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی آپ کی ہدایت کے ماتحت ہو گیا تھا اور یہ صرف ایک قیاس ہی نہیں ہے بلکہ حدیث میں صراحت کے ساتھ ذکر آتا ہے۔چنانچہ عبد اللہ بن عباس سے روایت آتی ہے کہ حضرت عثمان بن عفان خلیفہ ثالث فرمایا کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ جب آپ پر کوئی وحی نازل ہوتی تھی تو آپ اپنے کاتب وحی کو بلوا کر اسے وہ وحی لکھوا دیتے تھے اور ساتھ ہی یہ فرما دیتے تھے کہ اسے فلاں سورۃ میں فلاں موقع پر رکھو۔اسی طرح آپ خود ہی سورتوں کی ترتیب بھی مقرر فرما دیتے تھے۔اے اور یہ طریق آپ کا ابتداء دعویٰ نبوت سے تھا۔جب مکہ کے ابتدائی سالوں میں حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے تو انہیں اسلام کی تحریک قرآن کی تلاوت سے ہی ہوئی تھی جو خباب بن الارث ایک لکھے ہوئے صحیفہ سے حضرت عمر کی بہن اور بہنوئی کو پڑھ کر سنا رہے تھے۔کے الغرض قرآن شریف شروع سے ہی ساتھ ساتھ ضبط تحریر میں آکر مرتب ہوتا اور جمع ہو تا گیا تھا۔اس کا مزید (سنن الترمذى، أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَابِ وَمِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ) (سنن ابی داود، کتاب الصلاة، أبواب تفریح استفتاح الصَّلَاةِ، بَابُ مَنْ جَهَرَ بِهَا ) (السيرة النبوية لابن هشام، إسلام عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ ، حَدِيثُ آخَرُ عَنْ اِسلام عُمر ، جزء اول صفحه ۳۴۳) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، إسلام الفاروق، جزء ۲، صفحه ۳-۸)