صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 327
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۲۷ ۶۵ - کتاب التفسير / القيامة بَاب إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ )) (القيامة : ١٨) ہمارے ذمہ ہی اس کا اکٹھا کرنا اور اس کی ترتیب دینا ہے ٤٩٢٨ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ ۴۹۲۸ : عبید اللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مُوسَى بْنِ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے موسیٰ بن أَبِي عَائِشَةَ أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ الى عائشہ سے روایت کی۔ (وہ کہتے ہیں) کہ انہوں عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى لَا تُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَكَ نے سعید بن جبیر سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لا (القيامة: ١٧) قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تُحرك به لِسَانَكَ کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے كَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ إِذَا إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَقِيلَ کہا: اور حضرت ابن عباس کہتے تھے کہ آنحضرت لَهُ لا تُحَرِّكُ بِه لِسَانَكَ (القيامة : ١٧) صلی اللہ علیہ وسلم جب آپؐ پر وحی نازل کی جاتی يَخْشَى أَنْ يَنْفَلِتَ مِنْهُ إِنَّ عَلَيْنَا اپنے ہونٹوں کو ہلایا کرتے تھے۔ اس لئے آپ سے کہا گیا: تو اس کے ساتھ اپنی زبان کو مت ہلا۔ جمعة (القيامة : ١٨) أَنْ نَّجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ وَقُرْآنَة (القيامة : ١٨) آن آپ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی لفظ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ یعنی ہم تمہارے دل تَقْرَأَهُ فَإِذَا قَرَانُهُ (القيامة : ١٩) يَقُولُ میں اس کو محفوظ کر دیں گے ۔ وقرانہ اور تو اس أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَاتَّبِعُ قُرْآنَهُ ، ثُمَّ إِنَّ کو پڑھ لے گا۔ فَإِذَا قَرانہ سے مراد ہے کہ وہ کہتا عَلَيْنَا بَيَانَهُ (القيامة : ١٩ - ٢٠) أَنْ ہے جب یہ نازل کیا جائے فَاتَّبِعُ قُرانَہ تو جیسا تُبَيِّنَهُ عَلَى لِسَانِكَ۔ أطرافه: ۵ ، ۱۹۲۷ ، ٤٩۲۹، ٥٠٤٤، ٧٥٢٤۔ پڑھا گیا ویسے ہی تو بھی پڑھ ۔ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ پھر ہم تیری زبان سے اس کو بیان کروائیں گے۔ تشریح : إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَ وَ قُرانَه : مارے : عَهُ وَ قرانه : ہمارے ذمہ ہی اس کا اکٹھا کرنا اور اس کی ترتیب دینا ہے۔ اس بارہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: زید بن ثابت انصاری نے حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں قرآن کریم کو مصحف کی صورت میں جمع کر کے لکھا تھا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس سے پہلے قرآن مجید جمع نہیں تھا۔ بلکہ حق یہ ہے کہ قرآن کریم جوں جوں آنحضرت